Tuesday, 24 January 2017

قومی یوم رائے دہندگان


قومی  یوم رائے دہندگان
۲۵ جنوری
 ۲۵ جنوری کو قومی یوم رائے دہندگان منایا جاتا ہے. اسی دن ۱۹۵۰ میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کا قیام عمل میں آیا تھا. اسی دن کی مناسبت سے ۲۰۱۱ میں اس وقت کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے اس دن کو قومی یوم رائے دہندگان منانے کا فیصلہ کیا. اس دن کا مقصد رائے دہندگان میں اضافہ کرنا ہے بطور خاص نوجوان رائے دہندگان جن کی عمر ابھی ۱۸ سال ہوئی ہے۔ اور جمہوریت کے استحکام کے لیے رائے دہی کے عمل میں حصہ لینے کے لیے نوجوان اور عوام میں بیداری لانا ہے۔
جمہوریت کی ایک بہت اہم تعریف جو ابرہم لنکن نے کی ہے وہ یہ ہے کہ:
‘‘عوام کی حکومت عوام کے ذریعہ اور عوام کے لیے’’
عوام کے ذریعہ حکومت اس لیے ہوتی ہے کہ اس میں ملک کا ہر شہری  نسل، ذات، قبیلہ، زبان مذہب اور دیگر تمام طرح کے امتیازات سے بلند ہو کر  نمائندوں کے انتخاب کے لیے حق رائے دہی کرتا  ہے۔ ہر شہری کے ووٹ کی قدر (Value) مساوی ہوتی ہے۔ ہمارے ملک ہندوستان میں ۱۸؍ سال کی عمر مکمل کر لینے کے بعد ہر شہری حق رائے دہی کا اہل ہو جاتا ہے۔ اس کے لیے فہرست رائے دہندگان میں نام کا اندراج کروانا پڑتا ہے۔ اس لسٹ میں نام شمولیت کے بعد الیکشن کمیشن اس کو حق رائے دہی کا شناختی کارڈ بھی جاری کرتا ہے جو ووٹ ڈالنے کے علاوہ ملک میں دیگر کاموں میں شناخت کے لیے کام آتا ہے۔ یہ دن خاص طور پر نئے رائے دہندگان یعنی جن کی عمر ۱۸ سال مکمل ہوئی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ وہ اپنا نام ووٹر لسٹ میں درج کرائیں تاکہ وہ انتخاب میں حق رائے دہی کا استعمال کرسکیں۔
اس دن کا تصور:
سابق چیف الیکشن کمیشن ایس وائی قریشی اپنے ایک مضمون میں یہ بتاتے ہیں کہ ۲۰۱۰ میں بھونیشور (اڑیسہ) کے ایک نوجوان نے کہا کہ ۱۸ سال وہ عمر ہے جس میں جشن منایا جانا چاہئے۔(کیونکہ اس  عمر میں شہری حق رائے دہی کا اہل ہو جاتا ہے) اس کے لیے ہر سال کم از کم ایک دن ایسا ہو جو ۱۸ سال کی عمر کے لوگوں کے لیے منسوب ہو. مذکورہ لڑکے کے اسی تصور کے بعد اس دن کو منانے کا خیال ذہن میں آیا اور پھر اس کو منانے کا فیصلہ لیا گیا.
۱۴ جنوری ۲۰۱۶ مت داتا مہوتسو (رائے دہندگان کا تیوہار) کا افتتاح کرتے ہوئے موجودہ چیف الیکشن کمشنر ڈاکٹر نسیم زیدی نے کہا کہ قومی یوم رائے دہندگان ہر فرد کے ووٹ کی طاقت کی پہچان ہے. جمہوریت کی کامیابی کے لیے جمہوری انتخاب اور رائے دہی کے عمل میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کی شرکت لازمی ہے. رائے دہندگان جمہوری ادارے کی بنیادیں ہیں. اس لیے الیکشن کمیشن ملک کے ہر نوجوان کی انتخابی عمل تک رسائی اور رائے دہی کے عمل میں بیدار  وفعال شراکت کی حوصلہ افزائی کرتی ہے. 
سرگرمیاں:
اس دن تمام پولنگ مراکز پر بی ایل او (بوتھ لیول افسر) موجود ہوتے ہیں۔ تعلیمی اداروں کے ذریعہ مختلف طرح کے پروگرام مثلا ریلیاں، تحریری مقابلے، پینٹگس کے مقابلے منعقد ہوتے ہیں۔ پولنگ مراکز پر رنگولیاں بنائی جاتی ہے۔ اس دن نئے رائے دہندگان کو ایک حلف بھی دلایا جاتا ہے:
‘‘ہم بھارت کے شہری جمہوریت میں مکمل یقین رکھتے ہوئے عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنے ملک کی جمہوری روایتوں کی تکریم کرتے رہیں گے اور ملک کے آزاد، غیر جانب دار اور پر امن انتخاب کے وقار کو ملحوظ رکھتے ہوئے بے خوف ہو کر مذہب، زمرہ، ذات، کمیونٹی، زبان یا دیگر کسی بھی لالچ سے متاثر ہوئے بغیر تمام انتخابات میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ ’’
الیکشن کمیشن کے ذریعہ ہر سال ایک اس دن کے لیے ایک موضوع بھی منتخب کیا جاتا ہے۔ جیسے ۲۰۱۵ میں اس کا موضوع تھا ‘‘آسان رجسٹریشن آسان اصلاح’’

۲۰۱۶ میں ‘‘جامع اور معیاری انتخابی شراکت’’ (Inclusive and Qualitative Electoral Participation) اور نعرہ ‘‘کوئی رائے دہندہ پیچھے نہ چھوٹے’’  تھا۔ 

قومی یوم بنات

قومی یوم بنات
۲۴؍ جنوری
قومی یوم بنات 24 جنوری کو منایا جاتا ہے. 24 جنوری کے دن کو عورت کی طاقت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے. اس دن اندرا گاندھی پہلی بار وزیر اعظم کی کرسی پر بیٹھی تھیں اس لئے اس دن کو قومی یوم بنات کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے. یہ فیصلہ قومی سطح پر لیا گیا ہے. آج کی بچیاں زندگی کے ہر میدان میں آگے بڑھ رہی ہیں. خواہ وہ  کھیل کا میدان ہو یا سیاست کا، گھر ہو یا صنعت. دولت مشترکہ کھیلوں کے گولڈ میڈل ہوں یا وزیر اعلی اور صدر کے عہدے پر فائز ہو کر ملک کی خدمت کرنے کا کام ہو تمام شعبوں میں لڑکیاں یکساں طور پر شریک ہو رہی ہیں.⁠⁠⁠⁠
منانے کا سبب
آج بچیاں ہر میدان میں آگے بڑھ رہی ہیں  لیکن آج بھی وہ مختلف  طرح کی تعصبات کی شکار ہیں. یہ تعصب  اس کے آگے بڑھنے میں رکاوٹیں پیدا کرتی ہیں. پڑھے لکھے لوگ اور بیدار سماج بھی اس مسئلے سے اچھوتا نہیں ہیں . آج ہزاروں لڑکیوں کو پیدا ہونے  سے پہلے ہی مار دیا جاتا ہے یا پیدا ہوتے ہی لاوارث چھوڑ دیا جاتا ہے. آج بھی معاشرے میں بہت سے گھر ایسے ہیں، جہاں بیٹیوں کو بیٹوں کی طرح اچھا کھانا اور اچھی تعلیم نہیں دی جا رہی ہیں.
ہندوستان میں 20 سے 24 سال کی شادی شدہ عورتوں میں سے 44.5 فیصد (تقریبا نصف) عورتیں ایسی ہیں جن کی شادیاں 18 سال ست پہلے ہوئی ہیں. ان 20 سے 24 سال کی شادی شدہ عورتوں میں سے 22 فیصد (تقریبا ایک چوتھائی) عورتیں ایسی ہیں جو 18 سال کے پہلے ماں بن گئی ہیں. ان کم عمر لڑکیوں سے 73 فیصد (سب سے زیادہ) بچے پیدا ہوئے ہیں. ان بچوں میں 67 فیصد (دو تہائی) غذائی قلت کا شکار ہیں.
قتل جنین (ماں کے پیٹ کا بچہ) کی وجہ سے لڑکیوں کے تناسب میں بڑی کمی آئی ہے. پورے ملک میں جنسی تناسب 1000: 933  (ایک ہزار مرد پر نو سو تینتیس) ہے.
ترقی کی شرح میں کمی
1991 کی مردم شماری سے 2001 کی مردم شماری تک، ہندو اور مسلمانوں دونوں کی ہی آبادی میں اضافہ کی شرح میں کمی آئی ہے. 2001 کی مردم شماری کے یہ حقائق سب سے زیادہ حیران کن ہیں کہ 0 سے 6 سال کے بچوں کی جنسی تناسب میں بھی بڑی گراوٹ آئی ہے. یہاں کل جنسی تناسب میں 8 کے فرق کے مقابلے بچوں کی جنسی تناسب میں اب 24 کا فرق درج ہے. یہ ان کی صحت اور زندگی کی سطح میں کمی کا تناسب بھی ہے. یہ فرق خوفناک مستقبل کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے. ایشیا براعظم میں ہندوستان کی خاتون خواندگی کی شرح سب سے کم ہے. غور طلب ہے کہ کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال یعنی 'نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چلڈرنس رائٹس'  کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ہندوستان میں 6 سے 14 سال تک کی زیادہ تر لڑکیوں کو ہر دن اوسطا 8 گھنٹے سے بھی زیادہ وقت صرف اپنے گھر کے چھوٹے بچوں کی دیکھ بھال میں گزارنا پڑتا ہے. اسی طرح، سرکاری اعداد و شمار میں دکھایا گیا ہے کہ 6 سے 10 سال کی 25 فیصد لڑکیوں کو جہاں  اسکول چھوڑنا پڑتا ہے، وہیں 10 سے 13 سال کی 50 فیصد (ٹھیک دوگنی) سے بھی زیادہ لڑکیوں کو اسکول چھوڑنا پڑتا ہے. 2008 کے ایک سرکاری سروے میں 42 فیصد لڑکیوں نے یہ بتایا کہ وہ اسکول اس لیے چھوڑ دیتی ہیں، کیونکہ ان کے والدین انہیں گھر سنبھالنے اور اپنے چھوٹے بھائی بہنوں کی دیکھ بھال کرنے کو کہتے ہیں. لوگوں کو اس کے برے نتائج سے آگاہ کرنے اور لڑکیوں کو بچانے کے لئے 24 جنوری کو قومی یوم بنات منایا جاتا ہے.
ترقی میں رکاوٹ:
لڑکیوں کے آگے نہ بڑھنے کی وجہ یہ بھی ہے کہ اکثر گھروں میں کہا جاتا ہے کہ اگر لڑکی ہے، تو انہیں گھر سنبھالنے اور اپنے چھوٹے بھائی بہنوں کی دیکھ بھال کرنے کی زیادہ ضرورت ہے. اس طرح کی باتیں اس بہتری کی راہ میں رکاوٹ  بنتی ہیں. انہی حالات اور امتیازات کو مٹانے کی غرض سے 'یوم بنات' منانے پر زور دیا جا رہا ہے.
ان وجوہات پر بھی غور کرنا جو کسی لڑکی کی ذاتی شناخت کو ابھرنے نہیں دے رہی ہیں تاکہ سماجی تاثرات کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کو بہن، بیٹی، بیوی یا ماں کے دائروں سے باہر نکالنے اور انہیں سماجی امور میں شرکت کی حوصلہ افزائی کی جائے.

 قومی یوم بنات کو  لڑکے اور لڑکی میں امتیاز نہ برتنے اور معاشرے کے لوگوں کو صنفی مساوات کے بارے میں آگاہ کرنے کا عہد کرنا چاہئے.

Thursday, 22 December 2016

National Mathematocs Day

قومی یوم ریاضی

۲۲؍ دسمبر

ہندوستان میں ۲۲؍ دسمبر کو قومی یوم ریاضی قرار دیا گیا ہے۔یہ ہندوستان کے ماہر ریاضیات سری نواس راما نوجن کا یوم پیدائش ہے۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے اپنی وزارت عظمی کے دور میں سری رامانوجن کی ۱۲۵ ویں یوم پیدائش تقریب کے موقع پر افتتاحی تقریب میں مدراس یونیورسٹی کے سینٹنری آڈیٹوریم میں منعقد ۲۶ فروری کو ۲۰۱۲ کو اس کا اعلان کیا گیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ ۲۰۱۲ کو  قومی سال ریاضی کے طور پر منایا جائے گا۔

اس موقع پر ہندوستان اور یونیسکو نے پوری دنیا کے طلبہ کے لیے علوم ریاضیات کو عام کرنے اور اس کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل طے کرنے پر رضامند ی دی۔

ماہر ریاضیات سری نواس راما نوجن ۲۲؍ دسمبر ۱۸۸۷ کو پیدا ہوائے اور ۲۶؍ اپریل ۱۹۲۰ کو ان کا انتقال ہوا۔ ریاضیات کے میدان میں ان کی خدمات کا اعتراف کرنے کے لیے حکومت ہند نے ان کے یوم پیدائش کو ہر سال قومی یوم ریاضی اور ۲۰۱۲ کو سال ریاضی کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔

عدیم المثال اور خود مطالعہ ماہر ریاضیات راما نوجن نے نطریہ اعداد number theory کو دریافت کیا ریاضیاتی تجزیے mathematical analysis غیر معینہ تسلسل infinite series اور کسر مسلسل continued fraction میں اپنی غیر معمولی خدمات پیش کیں۔ وہ علوم ریاضی سے اتنی محبت کرتے تھے کہ اسکول کے بیشتر مضامین میں ناکام ہوگئے۔

گرچہ ان کی زندگی بڑی مختصر رہی تاہم انہوں نے اپنی مختصر زندگی میں ۳۹۰۰ ریاضیات کے نتائج، اکویشن کے ساتھ اپنی ان دریافتوں کو بھی جمع کیا جو راما نوجن پرائم اور راما نوجن تھیٹا کے نام سے مشہور ہوئیں اور اس  مضمون کی تحقیقات کو فروغ دیا۔

Saturday, 17 December 2016

Rights of Minority Days

حقوق اقلیات کا عالمی دن
عالمی یوم حقوق اقلیات
۱۸؍ دسمبر
۱۸؍ دسمبر کو ہر دن ساری دنیا میں اقلیتوں کے حقوق کا دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہمیں اقلیتوں حقوق کی یاد دہانی کراتا ہے۔ ہر ملک میں مختلف نسلی، لسانی اور مذہبی اقلیتیں پائی جاتی ہیں۔ ہر ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ تمام اقلیات کو ان کی آبادی اور مذہب کے لحاظ سے وہ تمام حقوق فراہم کرائے جو ملک کے دیگر اکثریتی طبقے کو حاصل ہے۔ اقلیتوں کو مساوی حقوق فراہم کرانا سچی جمہوریت کی پہچان ہے۔ دنیا بھر میں ایسے واقعات پیش آتے رہتے ہیں جن کسی خاص اقلیتی طبقے کو مختلف طرح کے امتیازات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسی صورتحال سے نبرد آزما ہونے اور اقلیتوں کے خلاف امتیازات کے واقعات کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ نے ۱۸ دسمبر ۱۹۹۲ کو قومی، نسلی اور  مذہبی اقلیتوں  سے وابستہ افراد کے حقوق کا اعلامیہ جاری کیا ۔
اقوام متحدہ نے وضاحت کی کہ:
ریاست اپنے تمام خطے میں اقلیتوں کے قومی، نسلی، ثقافتی، مذہبی اور لسانی شناخت کا تحفظ کرے گی اور ان کی شناخت کو باقی رکھنے کے لیے تمام امکانات کو فروغ دےگی۔
یہ وضاحت ساری دنیا میں اقلیتوں کے تحفظ کے ضمن میں بڑا اقدام تھا۔  ہندوستان کے لیے بھی یہ بڑا اہم دن ہے ۔ کیونکہ ہندوستان میں بھی کئی طرح کی اقلیتیں ہمیشہ سے رہتی آئی ہیں۔ اس دن اقلیتوں اور ان کے مسائل پر بحث و مباحثہ اور ان کے حل کے لیے غور و فکر کرنے  کا ایک موقع سامنے آتا ہے۔ حالانکہ ہندوستان نے  اپنے دستور میں اقلیتوں کے تمام حقوق مساوی طور پر فراہم کئے ہیں اور ان کی شناخت اور ثقافت کو ترقی دینے کی ذمہ داری  ریاست کو دی ہے۔ اس  کے باوجود مختلف سطح پر اقلیتوں کے حقوق کی پامالی کے واقعات آزادی کے بعد سے تاحال پیش آتے رہے ہیں۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے اقلیتوں کے مسائل کے حل کے لیے جہاں قومی سطح پر قومی اقلیتی کمیشن قائم کیا گیا ہے وہیں ریاستی سطح پر ریاستی اقلیتی کمیشن کی تشکیل کی گئی ہے۔ اقلیتوں کے فروغ کے لیے حکومت کی جانب سے کئی طرح کے مراعات  اور اسکیمیں بھی چلائی گئی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس دن ہم اقلیتوں کے حاصل حقوق کے سلسلے میں عوام کو بیدار کریں ساتھ ہی ان کو مرکزی اور ریاستی سطح  پر جو مراعات حاصل ہیں اور ان کے لیے جو اسکیمیں چلائی گئی ہیں ان سے واقف کراتے ہوئے ان اسکیموں کا فائدہ اٹھانے کی ترغیب دلائی جائے۔ اسکیموں کا فائدہ حاصل کرنے میں جو زمینی مسائل ہیں ان کے حل پر غور وفکر اور عملی اقدام بھی کیا جائے ۔
آئین ہند میں اقلیتوں کے حقوق:
آئین ہند نے بنیادی حقوق بنائے ہیں جو  ہندوستان کے  ہر فرد کو بلا امتیاز جنس، مذہب، نسل، ذات اور لسان حاصل ہے۔ یہ حقوق کسی بھی طرح سے چھینے نہیں جاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے ۔ ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہے اور نہ کسی اکثریت کے مذہب کو ریاست کا مذہب قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس حیثیت سے ملک کا ہر فرد خواہ وہ اکثریتی طبقے سے تعلق رکھتا ہو یا اقلیتی طبقے سے ملک کا مساوی شہری ہے اور ایک شہری کی حیثیت سے اسے بھی وہ تمام حقوق حاصل ہیں جو کسی بھی شہری کو حاصل ہیں۔ مذہب  یا زبان یا دیگر کسی بھی بنیاد پر کوئی شہری دوسرے درجے کا نہیں بلکہ سب اول درجے کے شہری ہیں۔ ان کے علاوہ کچھ خصوصی آرٹیکل ہیں جن میں اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کی ضمانت دی گئی ہے۔ مثلا
آرٹیکل ۲۹
دستور نے آرٹیکل ۲۹ میں مذہبی اور لسانی اقلیات کو یہ حق دیا ہے کہ وہ اپنا تعلیمی ادارہ قائم کرے اور اس کو چلائیں۔ یہاں اقلیتوں کو اپنی ثقافت کے مطابق چلنے اور اس کو فروغ دینے کی بھی ضمانت دی گئی ہے۔ ہندوستان مختلف تہذیبوں کا ملک ہے اور اس کثیر تہذیب کو باقی رکھا جانا بھی ضروری ہے۔ کیونکہ یہی ہندوستان کی شناخت ہے۔ ہندوستان میں ہندی دفتر ی زبان ہے لیکن اس کے باوجود تمام طبقات کو ان کی مادری زبان میں بنیادی تعلیم دینے کی ذمہ داری ریاست کی ہے۔ اس کے علاوہ یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ ہندوستان میں ۲۰؍ سے زائد دفتری زبانیں ہیں۔
آرٹیکل ۲۹؍ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ نسل، مذہب، ذات، زبان کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں کی جاسکتی ہے اور ریاست کے ذریعہ چلائے جارہے  یار ریاست سے امداد پارہے تعلیمی اداروں  میں ان بنیادوں پر داخلہ سے منع نہیں کیا جاسکتا ہے ۔
آرٹیکل ۳۰
آرٹیکل ۳۰ اقلیتوں کے حقوق کا ایک بڑا آلہ ہے۔ اس آرٹیکل کی رو سے تمام اقلیتوں کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ اپنی پسند کا تعلیمی ادارہ قائم کریں اور اس کا انتظام وانصرام اپنے ہاتھ میں رکھیں۔ سرکاری امداد حاصل کرنے کے سلسلے میں ایسے اداروں کے ساتھ سرکاری تفریق نہیں کرسکتی ہے۔
آرٹیکل ۱۶ اس بات کی ضمانت دیتی ہے کہ سرکاری ملازمت میں نسل، مذہب، زات اور زبان کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں کرسکتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہندوستان کا ہر شہری بلاامتیاز سرکاری دفاتر میں ملازمت کا مساوی حق رکھتا ہے۔
آرٹیکل ۲۵  ہر شخص کو مذہبی آزادی کا حق دیتا ہے۔ یہ آرٹیکل اس بات پر زور دیتا ہے کہ کسی اقلیتی طبقہ کا رکن وہ اپنے مذہب پر چلنے کا حق رکھتا ہے۔ ریاست صرف ان امور مذہبی امور سے باز رکھ سکتی ہے جب امن عامہ کو خطرہ ہو۔ اقلیتیں صرف اپنے مذہب پر چلنے کا ہی حق نہیں رکھتی ہیں بلکہ اس کو اس کی بلا جبر  وتشدد تبلیغ بھی کرسکتی ہیں۔ کیونکہ جبر وتشدد فرد کی آزادی کو چھیننے کا باعث ہیں۔
ہندوستان کی مذہبی اقلیات :
مرکزی حکومت نے ۲۰۰۶ میں وزارت برائے اقلیتی امور کی تشکیل کی جو ہندوستان کی مذہبی اقلیات کے لیے موجود پروگراموں کو فروغ دینے اور عمل میں لانے کا مرکزی حکومت کا ایک اعلی ادارہ ہے۔
قومی کمیشن برائے اقلیات ایکٹ ۱۹۹۲ کے گزٹ میں شق ۲ (ج) کے تحت مسلم، سکھ، عیسائی، بودھ، زرتشت (پارسی) اور جین کو مذہبی اقلیات میں شمار کیا گیا ہے۔
اقلیتوں کی آبادی کا تناسب:
۲۰۱۱ کی مردم شماری کے مطابق ہندوستان کی کل آبادی ۱۲۱ کروڑ ہے۔ ان میں ہندوؤں کی تعداد 79.8 فیصد، مسلم 14.2 فیصد، عیسائی 2.3 فیصد، سکھ 1.7 فیصد، بودھ 0.7 فیصد، جین 0.4 فیصد ہے۔
لسانی اقلیت:
لسانی اقلیت کی کوئی واضح تعریف نہیں کی گئی ہے۔ حتی کہ رنگناتھ مشرا کمیشن    کی رپورٹ جو ہندوستان کی مذہبی اور لسانی اقلیتوں کے حالات کے جائزے کے لیے تشکیل دی گئی تھی تو کوئی واضح تعریف نہیں ملتی ہے۔
اس کو اس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ ہر صوبہ ؍ ریاست میں ایک غالب زبان ہوتی ہے جس کو لوگوں کی اکثریت بولتی ہے۔ اسے مقامی زبان کہا جاتا ہے۔ وہ تمام لوگ جو مقامی زبان نہیں بولتے ہیں لسانی اقلیت سے تعلق رکھتے ہیں۔
لسانی اقلیت کئی طرح کے ہوسکتے ہیں:
مستقل طور پر : جیسے بیلگام  ضلع میں مراٹھی زبان کے بولنے والے اور آسام میں بنگالی زبان کے بولنے والے۔
غیر مستقل:
جیسے اڑیا زبان بولنے والوں کو روزگار کے لیے گجرات  میں رہنا، بہاریوں کا پنجاب میں تامل کو دہلی میں رہنا۔
قانونی واساسی ادارے:
سنٹرل وقف کونسل (Central Wakf Council)
قومی اقلیتی کمیشن (National Commission for Minorities)
کمشنر برائے لسانی اقلیات ( Commissioner for Linquistic Minorities)
خود مختار ادارہ:
مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن  (Mounala Azad Education FoundatioN)

قومی اقلیتی ترقیات و فنانس کارپوریشن 

Thursday, 24 March 2016

عالمی یوم صحت

عالمی یوم صحت
۷؍ اپریل
عالم یوم صحت ڈبلیو ایچ او کی قیادت میں عالمی سطح پر  ہر سال ۷؍ اپریل کو منایا جاتا ہے تاکہ صحت کی اہمیت کی جانب پوری دنیا کے لوگوں کی توجہ مبذول کرائی جاسکے۔ عالمی یوم صحت طبی مسائل کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کرانے کے ساتھ ساتھ ڈبلیو ایچ او کے قیام کی یادگار کے طور پر بھی منایا جاتا ہے۔  عالمی صحت تنظیم (ڈبلیو ایچ او) نے ۱۹۴۸ میں جنیوا میں پہلی بار عالمی صحت کانفرنس منعقد کیا تھا جس میں ہر سال ۷؍ اپریل کو عالمی یوم صحت منانے کا بھی فیصلہ لیا گیا اور ۱۹۵۰ میں پہلی مرتبہ پوری دنیا میں عالمی یوم صحت منایا گیا۔ عالمی یوم صحت ، صحت کے موضوع اور مسائل پر لوگوں کے درمیان بیداری لانے کا ایک سالانہ پروگرام ہے۔ اس کے علاوہ پورے سال لوگوں کی توجہ صحت پر مرکوز رکھنے کے لیے اور  صحت پروگراموں کو جاری رکھنے کے لئے ایک مخصوص موضوع کا بھی انتخاب کیا جاتا ہے۔ چنانچہ ۱۹۵۵ میں اس کا مخصوص موضوع انسداد پولیو تھا۔ اس کا نتیجہ ہے کہ آج اس مہلک مرض سے بیشتر ممالک نجات پاچکے ہیں۔
عالمی سطح پر صحت کے سنگین مسائل کو عالمی یوم صحت کا موضوع بنایا جاتا ہے  ۔ جس کے تحت اسکولوں، کالجوں عوامی مقامات اور دیگر متعلقہ طبی تنظیموں اور ڈبلیو ایچ او کے ذریعہ کئی طرح کے پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں ۔
ڈبلیو ایچ او اقوام متحدہ  کے تحت طب کے میدان میں کام کرنے والی ایک عالمی تنظیم ہے جس نے مختلف ترقی یافتہ ممالک میں جذام، پولیو، چیچک، دمسہ سمیت کئی سنگین بیماریوں  کو اپنے قیام کے دن سے مٹانے کی کوشش کی ہے اور ایک صحت مند دنیا کی تعمیر کے ہدف میں اہم رول ادا کیا ہے۔ اس کے پاس عالمی صحت کی رپورٹ کے تمام اعداد وشمار موجود ہیں۔
عالمی یوم صحت کیوں منایا جاتا ہے:
صحت تمام تر ترقیوں کی کلید ہے۔ صحت مند سماج کے بغیر ترقی ناممکن ہے اور غیر صحت مند سماج نہ صرف اپنے لئے بلکہ ملک اور دنیا کے لیے بھی ترقی میں رکاوٹ کا سبب بنتا ہے۔ اس لئے عالمی یومی صحت تندرست رہائش کی عادت کی حوصلہ افزائی، لوگوں کو صحت کی خدمات سے جوڑ کر زندگی کی امیدوں میں اضافے کی طرف اپنی توجہ مبذول کرتا ہے۔ ایڈز اور ایچ آئی وی سے پاک سماج بنانے  اور صحت مند رکھنے کے لئے  نوجوانوں کو بھی ہدف بنایا جاتا ہے۔
خوچ چوسنے والے ویکٹر جیسے مچھر (ملیریا، ڈینگو بخار، فلیرایا، چیکن گنیا، صفراوی بخار وغیرہ)  اور جراثیم کی وجہ سے پھیلنے والی بیماریوں  چچری کیڑے، سینڈ فلائیز اور گھونگھوں پر بھی ڈبلیو ایچ او خصوصی نظر رکھ رہی ہے۔
عالمی یوم صحت کے کچھ خاص مقاصد :
• ہائی بلڈ  پریشر کے مختلف اسباب اور بچاؤ کے بارے میں بیداری کو بڑھانا.
• مختلف بیماریوں اور ان کی پیچیدگیوں سے بچانے کیلئے مکمل  معلومات فراہم کرانا.
• پیشہ ورانہ طبی  خدمات کی حصولیابی  اور بلڈ پریشر کو بار بار چیک کرنے کے لیے حساس لوگوں کے گروپ کو فروغ دینا.
• لوگوں کو  اپنے آپ پر توجہ  رکھنے  کی  حوصلہ افزائی کرنا.
• اپنے ملک میں صحت مند ماحول  کو فروغ دینے  میں اپنی  کوشش کے ساتھ  عالمی سطح پر  ہیلتھ اتھاریٹیز کو رغبت دلانا۔
• مرض سے  غیر محفوظ علاقوں میں رہنے والے خاندانوں کو بچانا.
• مسافروں کو سفر کے دوران ویکٹر سے  پیدا ہونے  والی بیماریوں  سے  بچنے   کی معلومات دینا۔ .
عالمی یوم صحت کے سالانہ موضوعات:
• عالمی یوم صحت1950 کا موضوع تھا "اپنی صحت کی خدمات کو جانيے".
• عالمی یوم صحت1951 کا موضوع تھا "آپ  کے اور دنیا  بچوں کے لئے صحت".
• عالمی یوم صحت1952 کا موضوع تھا "صحت مند ماحول صحت مند لوگوں کو بناتا ہے".
• عالمی یوم صحت1953 کا موضوع تھا "صحت دولت ہے".
• عالمی یوم صحت1954 کا موضوع تھا "نرس: صحت کی پیش رو ہے".
• عالمی یوم صحت1955 کا موضوع تھا "صاف پانی مطلب بہتر صحت".
• عالمی یوم صحت1956 کا موضوع تھا "بیماری لئے ہوئے کیڑوں-پتنگوں کو ختم کرو".
• عالمی یوم صحت1957 کا موضوع تھا "سب کے لئے کھانا".
• عالمی یوم صحت1958 کا موضوع تھا "صحت ترقی کے 10 سال".
• عالمی یوم صحت1959 کا موضوع تھا "آج کی دنیا میں ذہنی بیماری اور ذہنی صحت ہے".
• عالمی یوم صحت1960 کا موضوع تھا "ملیریا کا انسداد- دنیا کے لئے چیلنج".
• عالمی یوم صحت1961 کا موضوع تھا "حادثے اور ان کا دفاع".
• عالمی یوم صحت1962 کا موضوع تھا " بینائی بچاؤ-  اندھے پن کو روکو".
• عالمی یوم صحت1963 کا موضوع تھا "بھوک = لاکھوں کی بیماری".
• عالمی یوم صحت1964 کا موضوع تھا " 'ٹی بی کے لیے کوئی جنگ بندی نہیں".
• عالمی یوم صحت1965 کا موضوع تھا "چیچک- مسلسل چوکنا رہیں".
• عالمی یوم صحت1966 کا موضوع تھا "مرد اور اس کا شہر".
• عالمی یوم صحت1967 کا موضوع تھا "صحت میں معاون".
• عالمی یوم صحت1968 کا موضوع تھا "کل کی دنیا میں صحت".
• عالمی یوم صحت1969 کا موضوع تھا "صحت، اجرت اور پیداوری".
• عالمی یوم صحت1970 کا موضوع تھا "کینسر کی ابتدائی شناخت : زندگی بچاتی ہے".
• عالمی یوم صحت1971 کا موضوع تھا "ذیابیطس کے باوجود ایک مکمل زندگی".
• عالمی یوم صحت1972 کا موضوع تھا "آپ کا دل آپ کی صحت ہے".
• عالمی یوم صحت1973 کا موضوع تھا "گھر سے صحت کی شروعات ہوتی ہے".
• عالمی یوم صحت1974 کا موضوع تھا "تنددرست دنیا کے لئے بہتر کھانا".
• عالمی یوم صحت1975 کا موضوع تھا "چیچک: دوبارہ واپسی ی  گنجائش نہیں".
• عالمی یوم صحت1976 کا موضوع تھا "دور بینی کور چشمی  سے بچاتا ہے".
• عالمی یوم صحت1977 کا موضوع تھا "اپنے بچوں کا استثنی اور دفاع کریں".
• عالمی یوم صحت1978 کا موضوع تھا "ہائی بلڈ پریشر سے نیچے".
• عالمی یوم صحت1979 کا موضوع تھا "ایک صحت مند بچہ: ایک یقینی مستقبل".
• عالمی یوم صحت1980 کا موضوع تھا "تمباکو نوشی اور صحت: انتخابات خوش ہے".
• عالمی یوم صحت1981 کا موضوع تھا "سال 2000 ایڈی سے سب کے لئے صحت".
• عالمی یوم صحت1982 کا موضوع تھا "سال میں زندگی جوڑے".
• عالمی یوم صحت1983 کا موضوع تھا "سال 2000 ایڈی سے سب کے لئے صحت" گنتی شروع ہو چکی ہے. "
• عالمی یوم صحت1984 کا موضوع تھا "بچوں کی صحت: کل کی دولت".
• عالمی یوم صحت1985 کا موضوع تھا "صحت مند يوا- ہمارے بہترین وسائل".
• عالمی یوم صحت1986 کا موضوع تھا "صحت مند جینا: ہر فاتح ہے".
• عالمی یوم صحت1987 کا موضوع تھا "استثنی: ہر بچے کے لئے ایک موقع".
• عالمی یوم صحت1988 کا موضوع تھا "سب کے صحت: صحت کیلئے تمام".
• عالمی یوم صحت1989 کا موضوع تھا "آئیے صحت کے بارے میں بات کریں".
• عالمی یوم صحت1990 کا موضوع تھا "ہمارا سیارے ہماری زمین: سوچیں عالمی، کام مقامی".
• عالمی یوم صحت1991 کا موضوع تھا "کیا آفت حملہ کرے گا، تیار رہیں".
• عالمی یوم صحت1992 کا موضوع تھا "دل کی دھڑکن: صحت کی تال".
• عالمی یوم صحت1993 کا موضوع تھا "احتیاط سے زندگی کو سنبھالیں: تشدد اور غفلت سے بچائیں".
• عالمی یوم صحت1994 کا موضوع تھا "ایک صحت مند زندگی کے لیے زبانی صحت"
• عالمی یوم صحت1995 کا موضوع تھا "عالمی پولیو خاتمہ".
• عالمی یوم صحت1996 کا موضوع تھا "بہتر زندگی کے لئے صحت مند شہر".
• عالمی یوم صحت1997 کا موضوع تھا "آنے والا متعدی مرض".
• عالمی یوم صحت1998 کا موضوع تھا "محفوظ زچگی".
• عالمی یوم صحت1999 کا موضوع تھا "فعال بڑھاپا فرق پیدا کر سکتا ہے".
• عالمی یوم صحت2000 کا موضوع تھا "محفوظ خون کے آغاز مجھ سے ہوئی".
• عالمی یوم صحت2001 کا موضوع تھا "ذہنی صحت: بائیکاٹ روک دیں، علاج کی ہمت کریں".
• عالمی یوم صحت2002 کا موضوع تھا "صحت کیلئے چلیں".
• عالمی یوم صحت2003 کا موضوع تھا "زندگی کے مستقبل کی صورت گری دیں: بچوں کے لئے صحت مند ماحول".
• عالمی یوم صحت2004 کا موضوع تھا "سڑک کی حفاظت".
• عالمی یوم صحت2005 کا موضوع تھا "ہر ماں اور بچوں کی گنتی".
• عالمی یوم صحت2006 کا موضوع تھا "صحت کیلئے مل کر کام کریں".
• عالمی یوم صحت2007 کا موضوع تھا "بین الاقوامی صحت کی حفاظت".
• عالمی ادارہ صحت دن 2008 کا موضوع تھا "موسمیاتی تبدیلی کے برعکس اثرات سے صحت کو محفوظ کریں".
• عالمی یوم صحت2009 کا موضوع تھا "زندگی بچائیں، ہنگامی صورت حال میں محفوظ ہسپتال بنائیں".
• عالمی یوم صحت2010 کا موضوع تھا "شہریکرن اور صحت: شہر کو صحت مند بنائیں".
• عالمی یوم صحت2011 کا موضوع تھا "سوکشمجیووں مخالف کو روکنے کے: آج کوئی فعل نہیں، کل کوئی علاج نہیں".
• عالمی ادارہ صحت دن 2012 کا موضوع تھا "اچھی صحت زندگی میں اور وقت جوڑ دیتے ہیں".
• عالمی ادارہ صحت دن 2013 کا موضوع تھا "صحت مند دل کی دھڑکن، صحت مند بلڈ پریشر".
• عالمی ادارہ صحت دن 2014 کا موضوع تھا "ویکٹر سے جنم لینے والی بیماری".
• عالمی ادارہ صحت دن 2015 کا موضوع تھا "کھانے کی حفاظت" (5 حل کے ساتھ؛ حل 1: ہمیشہ صفائی رکھیں، حل 2: پکا ہوا اور خام کھانے کو الگ رکھیں، حل 3: کھانے کو اچھے سے پكايے، حل 4: کھانے کو محفوظ درجہ حرارت پر رکھیں، حل 5: محفوظ پانی اور خام سامانوں کا استعمال کریں).

• عالمی یوم صحت2016 کا تھیم ہے "ذیابیطس: روک تھام بڑھانا، دیکھ بھال کو مضبوط کرنا اور نگرانی میں اضافہ کرنا".

کور چشمی (اندھا پن ) روک تھام ہفتہ

انسداد کور چشمی (اندھا پن )ہفتہ
یکم اپریل تا ۷؍ اپریل
ہندوستان میں یکم اپریل سے ۷؍ اپریل کے درمیان  انسداد کور چشمی  ہفتہ منایا جاتا ہے۔ حکومت ہند کی جانت سے نابینا افراد کے سلسلے میں عوام میں بیداری لانے کے لیے اس ہفتے کو منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اندھا پن ایک اہم  مسئلہ اور نابینا افراد کی بڑی سنگین حالت  ہے جس کو کوئی بینا  شخص اس طرح محسوس نہیں کرسکتا جیسا کہ کوئی نابینا کرسکتا ہے۔ اس لئے ملک بھر کے تمام لوگوں کے درمیان اس مہم کو پھیلانے کا اہتمام کیا جا تا ہے تاکہ نابینا افراد کے لئے آنکھوں  کی اہمیت کو سمجھا جاسکے۔ ہمیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ ہندوستان میں ایک بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو یا تو پیدائشی طور پر اندھے ہیں یا پھر کسی حادثے کی وجہ سے اندھے ہوگئے ہیں۔اعداد وشمار کے مطابق ہمارے ملک میں ۱۰؍ ملین لوگ ایسے ہیں جو اندھے پن کے شکار ہیں جبکہ عالمی سطح پر تقریبا ۳۷ ملین لوگ اندھے پن کے شکار ہیں۔
حکومت ہند نے اس مہم کا آغاز کیا ہے کہ تاکہ لوگوں کو ایسا بہتر موقع فراہم کیا جاسکے کہ وہ نابینا افراد کے لیے مختلف طرح کے رفاہی خدمات انجام دے سکیں جیسے مختلف طرح کے اداروں، ایجنسیوں اور اسپتالوں کا قیام وغیرہ۔ ایسی امید کی گئی ہے کہ اس مہم ہفتے کے ذریعہ لوگ حفظان صحت اور حفظان چشم سے متعلق معلومات حاصل کرسکیں گے ۔ ہندوستان کئی مقامات پر متاثرہ افراد اپنے حقوق کے لئے مظاہرہ کرتے ہیں جن کا ہونا ضروری ہے۔
کئی تعلیمی ادارے ایسے ہیں جو نابینا طلبہ کی تعلیم کے لئے مختص ہیں مگر اب بھی اس جانب مزید توجہ کی ضرورت ہے۔ اس لئے اس مہم کو کامیاب کرنے  کے لئے مختلف شعبوں، اشاعتی اداروں غیر سرکاری تنظیموں کو ایک ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ نابینا افراد کے تعاون سب سے بہتر اور مؤثر طریقہ ‘‘عطیہ چشم’’ ہے  جس کے ذریعہ ان کی تاریک زندگی میں مستقل طور پر روشنی لائی جاسکے۔ اس مہم کا یہ بھی مقصد ہے کہ لوگوں کی توجہ ان خطرناک امور کی طرف مبذول کرائی جاسکے جو بینائی کے کھونے کاسبب بنتے ہیں۔ لوگوں کو آنکھوں کی بیماریوں سے واقف کراتے ہوئے یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ وہ آنکھوں کی حفاظت کے لیے اپنے قریب کے امراض چشم کے ماہرین سے ملک کر وقفے وقفے جانچ کراتے رہیں۔
اس مہم میں سرکاری محکموں کے اعلی تعلیم یافتہ ، رضا کار تنظیموں اور ریاستی ہیلتھ ایجوکیشن بیورو کے افراد کو لگایا جائے گا جو لوگوں کے درمیان بیداری کو فروغ دینے کا کام رہے ہیں۔ یہ بہت ضروری ہے کہ لوگوں کو اندھے پن کے تمام اسباب سے واقف کراتے ہوئے بینائی کی اہمیت کے سلسلے میں  ان کو  متنبہ اور بیدار کیا جائے۔ اعداد وشمار کے مطابق ہندوستان میں اندھوں کی اتنی بڑی تعداد ہے کہ ہر تین شخص میں ایک شخص اندھا ہے۔ اندھے پن کی اہم وجوہات  ترکوما،( trachoma) موتیابین، وٹامن اے کی کمی، غذائی قلت، بینائی جانچ کے ماہرین(optometrists) اور عطیہ چشم  کی قلت ہیں۔ایک سروے کے مطابق مدھیہ پردیش اور راجستھان اندھے پن کی سب سے زیادہ متاثر ریاستیں ہیں۔
انسداد کور چشمی ہفتہ کا آغاز:
انسداد کور چشمی ہفتے کا آغاز جواہر لال نہرو اور راج کماری امرت کور نے سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ ۱۸۶۰ کے تحت ۱۹۶۰ میں کیا تھا۔ اس کے علاوہ عالمی صحت تنظیم (ڈبلیو ایچ او ) نے بھی کور چشمی پر قابو پانے کے لیے ‘‘بینائی کا حق’’ نام سے ایک مہم شروع کی تھی۔

نوٹ: ترکوما (Trachoma): آنکھوں  کا ایک  جرثوماتی مرض جو متعدی ہوتا ہے۔ اس میں پتلی کی اندرونی سطح میں  خون جم جاتا ہے۔


Wednesday, 23 March 2016

عالمی یوم تپ دن

۲۴؍ مارچ
عالمی یوم تپ دن
۲۴؍ مارچ کو عالمی یوم تپ دق  منایا جاتا ہے۔ اسی دن ۱۹۸۲ میں ڈاکٹر رابرٹ کوچ نے تپ دق کے  سبب بننے والے جراثیم ٹی بی بیسلس کی بازیافت کی تھی۔ یہ تحقیق میڈیکل سائنس کے لیے بہت بڑا قدم تھا۔ ڈاکٹر کوچ کی یہ تلاش تپ دن کی تشخیص اور علاج کے بہت بڑی چیز ہے۔ اسے ہر چھوٹی کامیابی نہیں سمجھی جاسکتی ہے کیونکہ اس وقت دنیا ٹی بی حملوں کو روکنے کی بڑی جد وجہد کر رہی تھی۔ ان سب کو دیکھتے ہوئے عالمی صحت تنظیم (ڈبلیو ایچ او) اور اقوام متحدہ کی صحت اتھاریٹی نے ۲۴؍ مارچ کو عالمی یوم تپ دق قرار دیا۔
عالمی صحت تنظیم نے ۲۰۱۵ تپ دق کے زور اور اس کی وجہ ہونے والی اموات کی شرح کو  نصف تک لانے کا ہدف متعین کیا۔ ایسا سمجھا جاتا ہے کہ ایک تہائی دنیا تپ دق سے کسی نہ کسی طور پر متاثر ہے اور جس تیزی کے ساتھ اس کا پھیلاؤ ہورہا ہے اس میں اگر ہمیں اس لعنت سے مکمل چھٹکارا حاصل کرنا ہے کہ تو ہمیں اپنی کوششیں اور بھی تیز کرنی ہوں گی۔ عالمی یوم تپ دق کا مقصد بھی یہی ہے کہ تپ دق کی عالمی وبا کو اور بیماری کو ختم کرنے کوششوں کے سلسلہ میں مزید بیداری لائی جائے۔ اس سلسلہ میں کئی ممالک اور تنظیموں کا ایک نیٹ ورک بھی ہے جسے اسٹاپ ٹی بی پارٹنر شپ (Stop T.B. Partnership) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ نیٹ ورک ۲۴؍ مارچ کو یہ دن مناتا ہے تاکہ اس بیماری کے امکانات اور اس کوروکنے اور علاج کی کوششوں کو اجاگر کیا جاسکے۔
گرچہ ڈبلیو ایچ او کی جانب سے ٹی بی کے علاج کی بہیترے کوشش کی گئی ہے لیکن اس کے باوجود ریڈ کراس کی بیا الاقوامی کمیٹی کے مطابق یہ کوششیں ابھی ناکافی ہیں۔ کمیٹی کا مشورہ ہے کہ اگر ہم اس مہلک مرض سے نجات کی کوئی امیداور امکان چاہتے ہیں تو اعلی حکام کو اس کے لیے اضافی کوششیں کرنی ہوں گی۔ صورتحال بہت سنگین ہیں لیکن مناسب اقدامات ہوئے تو آنے والے دنوں میں اس کی تعداد کو کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
عالمی یوم تپ دق پر مختلف طرح کے پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں۔ طبی ایجنسیاں کمیونٹی مباحثہ کا اہتمام کرتی ہے کہ جس میں ٹی وی کی روک تھام کے طریقوں پر غور وخوض کیا جاتا ہے۔ عالمی بیداری میں اضافہ کے لیے بڑے بڑے طبی مراکز پر فوٹو نمائش کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ تپ دق کے انسداد کے طریقوں اور بیداری کو فروغ دینے کے لیے حکومتی ایجنسیوں اور کمیونٹی گروپ کی جانب سے پرنٹ، الیکٹرانک اور آن لائن میڈیا کی خدمات بھی حاصل کی جاتی ہیں۔ کئی رفاہی ادارے بھی تپ دق پر قابو پانے کے لیے مالی امداد کی فراہمی میں حصہ لیتے ہیں۔