Tuesday, 8 March 2016

بین الاقوامی یوم خواتین

بین الاقوامی یوم خواتین
(International Women’s Day)
بین الاقوامی یوم خواتین "آئی ڈبلیو ڈی " دنیا بھر کے مختلف حصوں میں  ہر سال  8 مارچ کو منایا جاتا ہے۔اس دن کو کام کرنے والی خواتین کا بین الاقوامی دن (International Working Women’s Day)، خواتین کے حقوق اور بین الاقوامی امن کے لیے اقوام متحدہ کا دن بھی کہا جاتا ہے۔ اس دن سماج میں خواتین کے رول اور ان کی حصولیابیوں پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔ یہ دن خواتین کا احترام کرنے، ان کے کاموں کی ستائش اور ان کے تئیں محبت واحترام کے جذبے کا اظہار کیا جاتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ خواتین سماج کی نصف آبادی ہیں اور معاشی، سیاسی اور سماجی سرگرمیوں میں وہ اہم رول ادا کرتی ہیں۔ بین الاقوامی یوم خواتین ، خواتین کی ایسی تمام سرگرمیوں کو یادگار بنانے اور ان کی حوصلہ افزائی کے لیے منایا جاتا ہے۔
بین الاقوامی یوم خواتین منانے کی شروعات ایک سوشلسٹ سیاسی پروگرام کے دوران ہوا جس دن کئی ممالک میں چھٹی کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس دن منصوبہ بنداور مخصوص مرکزی خیال کے ساتھ خواتین کی جد و جہد اور ان کی خدمات کے بارے میں سیاسی اور سماجی بیداری کو فروغ دینے کے لیے ہر سال اس کو منایا جاتا ہے۔
بین الاقوامی خواتین کانفرنس کے زیر اہتمام اگست ۱۹۱۰ میں بین الاقوامی یوم خواتین کا سالانہ جشن منانے کے لیے کوپن ہیگن میں دوسری بین الاقوامی سوشلسٹ میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔ بالآخرامریکن سماجوادی اور جرمن سماجوادی لوئیس زیٹ (Luise Zietz) کے تعاون سے بین الاقوامی یوم خواتین کی سالانہ تقریب منعقد ہوئی ۔ حالانکہ اس میٹنگ میں کوئی مخصوص تاریخ کا تعین نہیں کیا گیا تھا۔  اس پروگرام میں  تمام خواتین کے یکساں حقوق کو فروغ دینے کا  اعلان کیا گیا۔ 
ہر سال فروری کے آخری اتوار کوامریکہ میں قومی یوم خواتین کے طور پر منایا جاتا تھا۔ فروری ماہ کے آخری اتوار کو ۱۹۱۳ میں روس کی خواتین نے پہلی بار اس دن کو منایا تھا۔ ۱۹۷۵ میں سڈنی میں آسٹریلین بلڈرس لیبر فیڈریش کی خواتین کے ذریعہ ایک ریلی کا بھی انعقاد کیا گیا۔ اقوام متحدہ نے ۱۹۷۵ کو خواین کا بین الاقوامی سال قرار دیا تھا۔
اس کے بعد ۸؍ مارچ ۱۹۱۴ میں بین الاقوامی یوم خواتین جشن کا انعقاد کیا گیا۔ اس کے بعد سے ہی ہر سال یہ ہر جگہ ۸؍ مارچ کو ہی منایا جاتا ہے۔ ۱۹۱۴ میں جرمنی میں خواتین کو ووٹنگ کے حق کے لیے خصوصی تقریب منعقد کی گئی۔ جبکہ ۱۹۱۷ میں ہونے والی تقریب میں پہلی جنگ عظیم اور اسی طرح روسی غذائی ذخیرہ کے اختتام پر سینٹ پیٹرس برگ کی خواتین نے ‘‘روٹی اور امن’’ کا مطالبہ کیا۔ رفتہ رفتہ یہ دن کئی کمیونسٹ اور سوشلسٹ ممالک میں بھی منایا جانے لگا۔ جیسے ۱۹۲۲ سے چین میں اور اسپینش کمیونسٹ میں ۱۹۳۶ سے منایا جانے لگا۔
اس دن پوری دنیا کے گوشے گوشے میں مختلف طرح کے پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں جن میں سماج کی تعمیر خواتین کے گراں قدر رول کی ستائش کی جاتی ہے اور خواتین کو در پیش مسائل اور ان کے حل ، خواتین کے حقوق اور ان کی حیثیت، پر گفتگو کی جاتی ہے۔ کئی اداروں میں اس دن چھٹیاں بھی رہتی ہیں۔ جشن منانے کے دوران خواتین جامنی رنگ کا ربن پہنتی ہیں۔ 

Thursday, 25 February 2016

یوم ڈانڈی مارچ

یوم ڈانڈی مارچ
(نمک ستیہ گرہ ؍ عدم تشدد تحریک کا دن)
یوم ڈانڈی مارچ ہر سال ہندوستان میں ۱۲ مارچ کو انتہائی جوش ومسرت کے ساتھ  منایا جاتا ہے۔ یہ دن جنگ آزادی  ہند کے سلسلے میں بابائے قوم مہاتما گاندھی کے ذریعہ چلائی گئی عدم تشدد تحریک اور نمک ستیہ گرہ کی یادگار ہے۔
دانڈی مارچ / نمک ستیہ گرہ کیا ہے؟
ڈانڈی مارچ کو ہی ہندوستان کی جنگ آزادی میں نمک ستیہ گرہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ نمک ستیہ گرہ کو بھی سفید بہتا دریا کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے کیونکہ اس تحریک کو چلانے والے لوگ سفید کھادی پہنے ہوئے تھے۔ جنگ آزادی  کے دوران بابائے قوم مہاتما گاندھی نے ۱۲؍ مارچ ۱۹۳۰ کو ڈانڈی مارچ نکالا تھا جس کو جنگ آزادی کی تاریخ بڑی اہمیت حاصل ہے۔ یہ تحریک برطانوی حکومت کی جانب سے ٹیکس اضافے کے بعد مخالفت میں  براہ راست کارروائی مہم کے طور شروع کی گئی تھی۔ یہ ہندوستان میں برطانوی نمک کے تسلط کے خلاف  غیر متشدد احتجاج یا خاموش احتجاج تھا۔ اس احتجاج کو برطانوی حکومت کے خلاف وسیع پیمانے کی سول نافرمانی تصور کیا جاتا ہے۔ ہندوستانیوں کی جانب سے اٹھایا گیا یہ قدم برطانوی سامراج کے خلاف بہت بڑا چیلنج تھا۔
ڈانڈی مارچ کی قیادت :
ڈانڈی مارچ گاندھی جی کے سابرمتی آشرم  (احمد آباد) سے گجرات کے ایک شہر نوساری کے ساحلی گاؤں ڈانڈی تک نکالا گیا جس کی قیادت موہن داس کرم چند گاندھی کر رہے تھے۔ یہ ایک مسلسل تحریک تھی جس کے ذریعہ برطانوی حکومت کو کوئی ٹیکس ادا کئے بغیر اپنا نمک تیار کرنے کے لیے ۲۴ دن میں ۳۹۰ کیلو میٹر کا مارچ نکالا گیا۔  اس طرح  ۵؍ اپریل ۱۹۳۰ کی صبح ۶:۳۰ بجے نمک کے قانون کو گاندھی جی کے ذریعہ توڑ دیا گیا۔  برطانوی سامراج کے نمک قانون کے خلاف ہندوستانیوں کی  یہ  عظیم سول نافرمانی ایک آگ ثابت ہوئی۔ اس مہم نے، جس میں بڑی تعداد میں ہندوستانی عوام نے  اپنی آزادی کے لیے شرکت کی  اور  ہندوستان کی آزادی کے سلسلے میں برطانوی رویے میں نمایاں  تبدیلی آئی۔ ہندوستانیوں کو اپنے لیے نمک کی تیاری، ٹیکس کی مخالفت اور  آزادی کی تحریک کو فروغ دینے کے لیے یہ بہت بڑی نمک مہم تھی۔  باپو دانڈی میں نمک سازی کے عمل کو شروع کرنے کے بعد نمک کی پیداوار جاری رکھنے کے لئے جنوبی ساحل تک ہندوستانی عوام کی قیادت کی۔ ستیہ گرہ شروع کرنے سے قبل ڈانڈی سے ۲۵ میل دور جنوب کی طرف دھرسانا سالٹ ورکس کے مقام پر ۱۹۳۰ کی ۴ اور ۵ مئی کی درمیانی رات میں وہ گرفتار کرلئے گئے۔ ستیہ گرہ کے بعد تقریبا ۸۰ ہزار ہندوستانی باپو کے ساتھ جیل بھیجے گئے۔
نمک ستیہ گرہ برطانوی حکومت کے خلاف گاندھی جی کی قیادت میں ایک عدم تشدد تحریک تھی۔ ستیہ کا اصطلاحی معنی سچی طاقت ہوتا ہے۔ برطانوی حکومت کے سماجی اور سیاسی نا انصافیوں کے خلاف دھرسانا میں کئے گئے اس عدم تشدد مظاہرے  کی خبر مؤثر سول نافرمانی کے طور پر پوری دنیا میں پھیل گئی۔ اس تحریک نے امریکہ کے شہری حقوق کے کارکن مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کو بہت متاثر کیا اور ۱۹۶۰ کی دہائی میں کالوں کے  لئے حقوق انسانی کی لڑائی کو جاری رکھنے میں ان کی مدد کی۔
جنگ آزادی میں ڈانڈی مارچ کا رول:
ڈانڈی مارچ مہم ہندوستان کی تحریک آزادی کا حصہ تھی جس نے برطانوی حکومت کو وسیع انداز میں متاثر کیا۔  ۳۱؍ دسمبر ۱۹۲۹ کی درمیانی رات  میں انڈین نیشنل کانگریس کے ذریعہ لاہور میں ترنگا جھنڈا تیار کیا گیا۔ ہندوستان کی آزادی یا مکمل سوراج کے لیے انڈین نیشنل کانگریس پارٹی کی قیادت مہاتما گاندھی اور پنڈت جواہر لال نہر کر رہے تھے۔
برطانوی حکومت نے ہندوستان کو سیاسی، معاشی، ثقافتی اور  روحانی ہر اعتبار سے تخریب کا شکار بنادیا تھا۔ نمک ستیہ گرہ نے برطانوی حکومت کو توڑنے اور مکمل آزادی کے حصول کا ایک بہت بڑا ذریعہ ثابت ہوا۔ برطانوی نمک ٹیکس کے خلاف یہ گاندھی جی کی قیادت میں پہلی سول نافرمانی تحریک تھی۔ سالٹ ایک ۱۸۸۲ کے مطابق برطانوی سامراج نے ہندوستان کے انہی لوگوں کو نمک کی تیاری کا انتظام چلانے کا اختیار دے رکھا تھا جو نوآبادیاتی حکومت سے نمک خریدنے پر پابند ہو۔
برطانوی حکومت کے ذریعہ لگائے گئے نمک کے ٹیکس ادائیگی  ہندوستان کے غریب عوام کے لیے انتہائی تکلیف دہ تھی۔ کیونکہ نمک ہوا اور پانی کی طرح روزانہ کی ضرورت تھی جبکہ ہندوستانی عوام پر یہ دباؤ تھا کہ وہ برطانوی اتھاریٹی سے ہی ٹیکس ادا کرکے نمک حاصل کریں۔ لہٰذا نمک کے ٹیکس کو ختم کرنے اور اپنا نمک تیار کرنے کی غرض سے گاندھی جی اور سروجنی نائیڈو سمیت ۷۸ مجاہدین نے گجرات کی ساحلی بستی ڈانڈی تک  ۱۲؍ مارچ ۱۹۳۰ کو پیدل سفر کیا۔
اس تحریک کے پہلے دن اصلالی گاؤں میں ۲۱ کیلو میٹر کا سفر پورا ہوا۔ یہ مارچ مختلف بستیوں سے گذرا جس میں ڈھول تاشے کی آواز پر ‘‘رگھوپتی راگھو  راجا رام’’ گایا جارہا تھا۔ گاندھی نے اپنی تقریر میں کہا کہ نمک ٹیکس ایک غیر انسانی حرکت ہے جبکہ ستیہ گرہ غریب آدمی کی لڑائی ہے۔ غریب عوام کو اپنی آزادی، حقوق اور ملک کی آزادی کی لڑائی میں شامل کرنے کے لیے یہ تحریک بہت ضروری تھی۔
نمک ٹیکس کے خلاف برطانوی سلطنت کو ہلانے کے لیے انہوں نے سمندر کے نمکین کیچڑ کو ابال کر اپنا نمک بنانا شروع کیا۔ گاندھی جی ساحلی علاقوں میں بسنے والے اپنے ہزاروں پرستاروں سےکہا کہ جہاں تک ممکن ہو وہ نمک بنانا شروع کریں۔ اس کے بعد یہ غیر قانونی ساحلی علاقوں بننے اور بکنے لگا۔ خود گاندھی جی نے بھی نمک تیار کیا اور  اس وقت تک سولہ سو روپے کا نمک  فروخت بھی کیا جس وقت انہیں سولہ ہزار لوگوں کے ساتھ برطانوی حکومت نے گرفتار کیا تھا۔
یہ ستیہ گرہ اس وقت انقلاب کی صورت میں ابھرا جب لوگوں نے برطانوی حکومت  کو کپڑے اور دیگر اشیا کے ٹیکس ادا کرنے سے انکار کرنے لگے۔ اس جرم میں گاندھی اور ان کے قریبی ساتھی غفار خان اور سی گوپال راج آچاریہ (جو بعد میں آزاد ہند کے پہلے گورنر جنرل بھی بنے) گرفتار  بھی کرلئے گئے۔

 ہر سال  مہاتما گاندھی فاؤنڈیشن کی جانب سے اس عظیم واقعے کی یادگار کے طور پر  جشن کا  اہتمام کیا جاتا ہے جس کو (International Walk for Justice & Freeodm)  کا بھی نام دیا گیا ۔ ۲۰۰۵ میں اس واقعے کے پچھترویں سالگرہ کے موقع پر سونیا گاندھی کی موجودگی میں احمد آباد سے ۱۲؍ مارچ کو ایک مارچ نکالا گیا جس میں گاندھی جی کے پوتے توشیر گاندھی اور دیگر مارچ کارکنان بھی احمد آباد سے ڈانڈی تک نک ستیہ گرہ کے راستے سے گذرے۔ پچھترویں سالگرہ کے اس موقع پر پر اس واقعے کی یاد میں ڈانڈی مارچ سے متعلق حکومت ہند نے ڈاک ٹکٹ  کا ایک سریز بھی جاری کیا۔ 

Monday, 22 February 2016

سنٹرل اکسائز ڈے مرکزی مصنوعات کا دن

مرکزی مصنوعات  کا دن
Central Excise Day
ہر سال ۲۴؍ فروری کو سنٹرل اکسائز ڈے (مرکزی مصنوعات کا دن ) منایا جاتا ہے جس کا مقصد اکسائز ڈپارٹمنٹ کے ملازمین کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ تاکہ وہ سنٹرل اکسائز ڈیوٹی کو بہتر طور سے انجام دے سکیں اشیا کے مصنوعات کی تجارت میں بد عنوانی سے روکنا تھا۔ اسی طرح اکسائز کی خدمات کے بہتر امکانات کو سامنے لانے کے لیے دیگر اصولوں کو بھی بروئے کار لایا جاتا ہے۔
مصنوعات کی فیس  ملک ریاستی مرکزی دونوں حکومتوں کے لیے آمدنی کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے جس سے ملک میں سماجی اور اقتصادی ترقی کے امکانات بنتے ہیں۔ سنٹرل اکسائز کے ذریعہ حاصل آمدنی کو تعلیم، صحت اور سماجی مفاد کے دیگر کاموں میں خرچ کیا جاتا ہے۔ سنٹرل اکسائز ملک سے غربت اور جہالت کو مٹانے کے لیے ہندوستانی معاشیات کا بھی بڑے پیمانے پر تعاون کرتا  ہے۔ اسی کے ذریعہ بہتر تعلیم اور بہتر طبی خدمات پیش کر کے ملک کو صحت مدن اور ترقی یافتہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
سنٹرل اکسائز اور نمک ایکٹ ۱۹۴۴ میں بنائے گئے۔ یوں تو مصنوعات کی فیس کی بہت طویل تاریخ ہے لیکن سرکاری طور ۱۹۴۴ میں گیارہ چیزوں کو مشترک کر کے ‘‘مرکزی مصنوعات   اور نمک ۱۹۴۴’’  (Central Excise & Salt Act - 1944) کا نام دیا گیا جسے ۱۹۹۶ میں بدل کر سنٹرل اکسائز ایکٹ ۱۹۴۴ کردیا گیا۔ سنٹرل اکسائز ڈے (مرکزی مصنوعات کا دن) ہر سال ۲۴ ؍ فروری کو پورے ہندوستان میں منایا جاتا ہے۔
اس موقع پر منعقد کئے جانے والے پروگرام اشیا  اورسنٹرل اکسائز ایکٹ ۱۹۴۴ میں کی شرائط کے مطابق  لوگوں کے ذریعہ حد سے زیادہ کمائی پر پر لگائے ٹیکس کے حصول کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ ٹیکس کی ادائیگی کی شرح سنٹرل اکسائز ٹیرف ایکٹ ۱۹۸۵ کے مطابق شیڈیول I  اور II میں متعین کی گئی ہے۔ اس کو سنٹرل بورڈ آف اکسائز اینڈ کسٹم مختلف فیلڈ دفاتر کے ذریعہ منظم چلایا جاتا ہے۔
اس دن سرکاری اتھاریٹیوں کی جانب سے مختلف طرح کے پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں۔ الگ الگ ریاستیں اس دن کو نشان زد کرنے کے لیے الگ الگ طرح کے پروگرام منعقد کرتی ہیں۔ کمپنیاں اور ملازمین اپنی فریضہ،  لگن  اور حسن کار کردگی کے لیے انعامات سے نوازے جاتے ہیں۔ ان ایوارڈ اور انعامات کے علاوہ دیگر قسم کی اور بھی سرگرمیاں اس دن انجام دی جاتی ہیں۔عملہ کے اراکین کے لیے کئی طرح کے  ورکشاپ اور سمینار  کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ متعلقہ محکموں اور اعلی اتھاریٹیوں کی جانب سے بیداری پروگرام کا بھی انعقاد کیا جاتا ہے۔
مرکزی مصنوعات ایکٹ کے اصل کے مطابق ۶۷ اشیا پر سنٹرل اکسائز فیس نافذ کی گئی تھی بعد میں ۶۸ ویں چیز بھی شامل کردی گئی۔ لیکن ان تمام اشیا کی وضاحت کہیں نہیں کی گئی تھی۔ یہ تبدیلی مختلف طرح کے تضاد کا سبب بن رہا تھا۔  اس لیے  حکومت نے ۱۹۸۵ میں سنٹرل ٹریفک ایکٹ ۱۹۸۵ “The Central Traffic Act, 1985 (CETA) بنایا۔ اس کے بعد اس کے اصل سنٹرل اکسائز ایکٹ ۱۹۴۴ میں شامل کردیا گیا۔ محکمہ پر یہ ذمہ داری بھی عائد کی گئی  کہ وہ اضافی فیسوں کے تحت دیگر اقسام کی فیس جیسے خصوصی اہمیت والی اشیا، کپڑے اور کپڑوں کی مصنوعات وغیرہ وصول کرے۔
اس دن کی اہمیت
سنٹرل اکسائز ڈے ہندوستان میں سنٹرل بورڈ آف اکسائز اینڈ کسٹم ڈپارٹمنٹ کے افسران کے درمیان مساوات کی حوصلہ افزائی اور ۲۴؍ فروری ۱۹۴۴ کی یادگار منانے کےلیے منایا جاتا ہے جس دن سینٹرل اکسائز اینڈ سالٹ ایکٹ بنایا گیا۔ 

قومی یوم سائنس National Science Day

قومی یوم سائنس
قومی یوم سائنس  ہر سال ۲۸؍ فروری کو پورے ملک میں جوش وخروش کے ساتھ منایا جاتا ہے ۔ یہ دن ہندوستانی سائنس داں سر چندر شیکھر وینکٹ رمن کی ۱۹۲۸ میں  دریافت شدہ سائنسی تحقیق رمن  کی یادگار ہے۔  اس دن کے منانے کا مقصد سائنس کے فوائد کے تئیں عوام میں بیداری لانا اور عوام میں سائنس ذہن پیدا کرنا ہے۔
سر چندر شیکھر وینکٹ رمن کا تعلق تامل ناڈو کے برہمن خاندان سے تھا۔ وہ پہلے سائنس داں  ہیں  جنہوں نے ہندوستان میں مذکورہ موضوع پر ہندوستان میں تحقیق کیا۔۔ ان کی اسی عظیم سائنسی خدمات کے احترام اور یادگار کے لیے نیشنل کونسل فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کمیونی کیشن کے ذریعہ ۱۹۸۶ میں ۲۸؍ فروری کوقومی یوم سائنس کے طور پر اعلان کرنے کا مطالبہ ہندوستانی حکومت سے کیا گیا۔ تب سے پورے ملک میں قومی یوم سائنس منایا جاتا ہے۔ہندوستان میں  بشمول سائنسی، تعلیمی ، طبی، تکنیکی اور تحقیقی ادارے  تمام اسکول، کالجوں، یونیورسیٹیوں کے طلبہ، اساتذہ، سائنس داں اور محققین اس دن کو مناتے ہیں۔ ہندوستان میں قومی یوم سائنس کے پہلے جشن کے موقع پر سائنسی فروغ اور عوامی مقبولیت کے حلقہ میں قابل تعریف کوشش اور نمایاں مقام کے لیے نیشنل فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کمیونی کیشن کو قومی سائنسی عوامی مقبولیت ایوارڈ بھی دیا گیا۔
سر چندر شیکھر وینکٹ رمن نے کولکاتا کے کہ انڈین ایسو سی ایشن فار دی کلٹی ویشن آف سائنس میں ۱۹۰۷سے ۱۹۳۳ تک کام  کیا تھا۔ اس دوران انہوں نے علم طبعیات کے کئی نکات پر تحقیق کی ۔ انہی تحقیقات میں سے ایک رمن ایفکٹ ان کی ایک عظیم کامیابی ہے اور دریافت ہے جس نے ہندوستانی تاریخ میں بھی سنہرے حرفوں سے لکھا گیا۔ اس عظیم کامیابی پر ۱۹۳۰ میں انہیں نوبل پرائز سمیت کئی ہندوستانی ایوارڈوں بھی نوازا گیا۔ ۲۰۱۳ میں امریکن کیمیکل سوسائٹی کے ذریعہ رمن ایفکٹ کو بین الاقوامی تاریخٰ کیمیکل شناخت سے معنون کیا گیا ہے۔
رمن ایفکٹ: جب روشنی مختلف چیزوں کے درمیان سے گذرتی ہے تو اس کے بکھراؤ کے اثرات مرتب ہوتے ہیں اسی کو  رمن ایفکٹ کا نام دیا گیا۔
قومی یوم سائنس ہندوستان میں سائنسی تہوار کی طرح کی منایا جاتا ہے۔ اس دن اسکول وکالج کے طلبہ سائنسی پراجیکٹس کی نمائش کرتے ہیں۔ اسی طرح ریاستی اور قومی سائنسی ادارے اپنی تازہ ترین تحقیقات کی نمائش کرتے ہیں۔
اس دن کی  تقریبات میں عوامی تقریر، ریڈیو ٹی وی ٹاک شو، سائنسی فلموں کی نمائش، سائنسی خیالات اور موضوعات پر مبنی سائنسی نمائش، نائٹ  اسکائی دیکھنا، رنگین پروجیکٹس اور تحقیق نمائش، بحث، سوال شمالی مقابلہ، تقریر، سائنس ماڈل نمائش وغیرہ  جیسے کئی طرح کی سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں۔ وہیں سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر اس دن اپنے خطاب میں طلبہ ، سائنس دانوں اور محققین کو پیغام دیتے ہیں۔ 

مادری زبان کا بین الاقوامی دن (عالمی یوم مادری زبان)

مادری زبان کا بین الاقوامی دن
مادری زبان کا بین الاقو امی دن ہر سال ۲۱ فروری کو منایا جاتا ہے۔ اس  کا  مقصد دنیا بھر میں تمام   زبانوں اور ثقافتی تنوع  کے تئیں لوگوں میں بیداری لانا ہے۔ سب سے پہلے ۱۹۹۹ میں عالمی ادارہ یونیسکو نے اس دن کے منانے کا اعلان کیا تھا۔ تب سے یہ ہر سال دنیا بھر میں منایا جارہا ہے۔
بنگلہ دیش کے دار الحکومت ڈھاکہ میں بنگالی اور اردو زبان کے تنازعے میں ۲۱؍ فروری کو ۱۹۵۲ کو چار نوجوان ہلاک کے ہوگئے تھے۔ یہ دن اسی واقعے کی یادگار ہے جس کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے جبکہ بنگلہ دیش میں  اس دن عام چھٹی ہوتی ہے۔  اپنی ثقافت کو محفوظ کرنے اور دنیا بھر میں اس کو فروغ دینے کا سب سے طاقتور ذریعہ زبان ہے۔
تقسیم ہند کے وقت بنگال کے دو ٹکڑے ہوگئے تھے ۔ اس کا مغربی حصہ ہندوستان کا جزو بن گیا اور مشرقی حصہ پاکستان میں چلا گیا۔ مشرقی بنگال کے نام سے جانا جانے لگا جس کو بعد میں مشرقی پاکستان کا بھی نام دیا گیا۔ اس وقت وہاں معاشی، سماجی، ثقافتی اور لسانی مختلف طرح کے مسائل اور چیلنجز در پیش تھے۔ ۱۹۴۸ میں جب پاکستان نے اردو کو قومی زبان بنانے کا اعلان کردیا تھا تو بنگلہ بولنے والے پاکستان باشندگان کی اکثریت نے بڑے پیمانے پر احتجاج کرنا شروع کردیا جو ڈھاکہ یونیورسٹی کے چار طلبہ کی موت پر اختتام پذیر ہوا ۔ ان نوجوانوں کو  پولیس نے گولی مار دی تھی۔ مادری زبان نے کے لیے ان طلبہ کی موت کو مادری زبان  کے بین الاقوامی دن کے نام سے یاد رکھا گیا۔ اپنی مادری زبان کے تحفظ کے لیے قربانی دینے والے ان نوجوانوں کے احترام میں ڈھاکہ میں شہید مینار تعمیر کرایا گیا  ہے۔ آسٹریلیا کے سڈنی واقع ایشفیلڈ پارک میں بھی بین الاقوامی مادری زبان کی یادگار تعمیر کرائی گئی ہے۔ شہید مینار اور پتھر پر بنائے گئے گلوب پر بنگلہ اور انگریزی دونوں  زبانوں میں لکھا گیا ہے کہ ‘‘ہم ۲۱؍ فروری کے شہیدوں کو یاد رکھیں گے’’۔ بین الاقوامی یوم مادری زبان کے موقع پر یونیسکو اور دیگر اقوام متحدہ کی ایجنسیاں دنیا بھر میں ثقافتی اور لسانی تنوع کے فروغ کے لیے مختلف طرح پروگراموں کا انعقاد کرتی ہے۔ یہ ایجنسیاں اپنی زبان کو جاننے کے لیے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں اپنی زبان اور ثقافت کو دیگر ممالک میں فروغ دینے کے لیے بیداری لانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
بین الاقوامی یوم مادری زبان کے موقع پر بنگلہ دیش میں لوگ شہید پارک جاتے ہیں اور ۲۱؍ فروری کے شہیدوں پر پھول نچھاور کرکے خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ اس موقع پر بنگلہ دیشی اپنی ثقافت، روایت اور اپنی قومی زبان بنگالی کے لیے جشن مناتے ہیں۔جشن کے درمیان زبان اور ثقافتی تنوع کے سلسلے میں امتیازی پیشکش  کا مظاہرہ کرنے والوں کو انعامات سے بھی نوازا جاتا ہے۔
بین الاقوامی یوم مادری زبان ان چار نوجوانوں کی یاد میں منایا جاتا ہے کہ جو اپنی زبان کے لیے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے تھے اور اس جشن میں اس بات کا عہد کیا جاتا ہے کہ ہم ان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔
مادری زبان وہ زبان ہے جو بچہ اپنی ماں کی گود سے سے سیکھنا شروع کرتا ہے اور اس کو زندگی سے الگ نہیں کیا جاسکتا ہے۔  اس کے ذریعہ انسان اپنی تہذیب اور ثقافت سیکھتا ہے۔ یہاں تک کہ خواب بھی انسان اپنی مادری زبان میں ہی دیکھتا ہے۔ اس لیے ہمیں اپنی مادری زبان کو ہر حال میں باقی رکھنا چاہئے اور اس کو بول کر، اپنے بچوں کو سکھا کر اور اس میں علم حاصل کرکے اپنی زبان کی حفاظت کرنی چاہئے۔ کیونکہ اگر مادری زبان سے ہم محروم ہوگئے تو ہم سے ہماری تہذیب اور ثقافت بھی چھن جائے گی اور ہم زبان کے ساتھ اس زبان سے وابستہ تہذیب اور ثقافت کے غلام بن جائیں گے۔ 

Tuesday, 17 November 2015

نیشنل پریس ڈے

۱۶؍  نومبر
نیشنل پریس ڈے
)قومی یوم ذرائع ابلاغ(
۱۶؍ نومبر کو ہر سال ہندوستان میں نیشنل پریس ڈے ( قومی یوم ذرائع ابلاغ) منایا جاتا ہے۔ نیشنل پریس ڈے ہندوستان میں آزاد اور ذمہ دار  پریس کی علامت ہے۔ ۴؍ جولائی ۱۹۶۶ کو ہندوستان میں پریس کونسل آف انڈیا کا قیام عمل میں آیا تھا لیکن ۱۶؍ نومبر ۱۹۶۶ سے اس نے باضابطہ طور پر کام کرنا شروع کیا ۔ اس لیے اسی دن  کو ہر سال نیشنل پریس ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس سے قبل ۱۹۵۶ میں پریس کونسل کے قیام کی سفارش  کی گئی تھی اور  پہلے پریس کمیشن سے یہ نتیجہ اخذ  کیا تھا کہ یہ اعلی معیار کی برقراری اور صحافت کے پیشہ وارانہ اخلاقیات کو استحکام بخشنے کے لیے ایک قانونی ادارہ کا کام کرے گا ۔ چنانچہ ۱۶؍ نومبر ۱۹۶۶ کے بعد سے اب تک کونسل اپنی اس راہ پر  پوری طرح کار بند ہو کر اپنا فریضہ انجام دے رہا ہے۔
ہندوستان میں پریس کونسل کے قیام کا مقصد نہ صرف طاقتور ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے ذرائع ابلاغ کے اعلی معیار کو برقرار رکھنا تھا بلکہ اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ ہمارا ذرائع ابلاغ؍ صحافت؍ میڈیا خارجی عوامل، خوف اور دھمکیوں سے متاثر ہوکر جانب دار  نہ ہوجائے  یا حقائق کو چھپانے پر مجبور نہ ہو۔ یوں تو دنیا بھر میں پریس اور میڈیا کونسل پائے جاتے ہیں لیکن ہندوستان میں پریس کونسل ایک منفرد اتھاریٹی ہے جو ریاست کا آلہ کار بننے کے بجائے پریس کی آزادی کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔
صحافت؍ میڈیا کو جمہوریت کا چوتھا ستون تسلیم کیا جاتا ہے۔ جمہوریت کی کامیابی اور استحکام کا انحصار بڑی حد تک آزاد اور ذمہ دار صحافت پر بھی ہے۔ ہندوستان میں صحافت نے عوام کو بیدار کرنے اور انہیں با اختیار بنانے، جمہوری اور انسانی اقدار کے تحفظ، اس کے احیا اور اس کے فروغ  میں   میں بڑا اہم رول ادا کیا ہے۔ صحافیوں نے جمہوریت کی بقا، آئین کے تحفظ، محروم طبقات کے حقوق کی بازیافت وغیرہ امور میں ایک سپاہی کی طرح قلم کو ہتھیار بناکر جنگ لڑی ہے اور اس میں کامیابی بھی حاصل کی ہے۔
نیشنل پریس ڈے اخبار میں کام کرنے والے صحافیوں اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ وہ  حقائق کی تلاش میں پیشہ وارانہ ایمانداری،صحافتی معیاروں اور  اخلاقی اصولوں کو ہر حال میں برقرار رکھیں  گے۔پریس  کی آزادی پر آنچ نہیں آنے دیں گے اور اس کو فروغ دینے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ جس طرح پریس کے لیے آزادی ضروری ہے اسی طرح یہ ایک ذمہ داری کا بھی کام ہے۔ اس دن صحافیوں کو اس بات کا بھی عزم کرنا چاہئے کہ وہ اپنی آزادی کا غلط استعمال نہیں کریں گے اور اپنے قلم سے عوام  کو گمراہ نہیں ہونے دیں  گے۔ سماج میں توازن اور ہم آہنگی برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے۔ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے جس کا آئین سیکولر ہے۔ یہاں کسی مذہب، ذات، نسل، زبان اور جنس وغیرہ کی بنیادوں پر امتیاز کی گنجائش نہیں ہے۔ یہ دن صحافیوں کو  اس بات کی یقین دہانی کراتا ہے کہ وہ کسی مخصوص فکر اور رائے  سے تعلق رکھنے  کے باوجود ملک کی سیکولرزم کو مضبوط بنائیں گے  اور ملک کی تکثیریت یا کثرت میں وحدت کے مزاج کو فروغ دیں گے۔ آزادی کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ میڈیا لوگوں کی داخلی زندگی میں جھانک تاک کرے۔ یہ دن انہیں اس بات سے بھی ہوشیار کرتا ہے کہ وہ آزادی کا ایسا استعمال نہیں کریں کہ کسی شخص کی شخصی آزادی ختم ہوجائے  ۔

عالمی یوم معذور

۳؍ دسمبر
عالمی یوم معذور
World Disabled Day
عالمی یوم معذور ہر سال  ۳ دسمبر کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کو معذور افراد کے عالمی دن کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد معذور ی کے مسائل اور معذور افراد کے بنیادی حقوق کے تئیں بیداری لانا ہے۔ جو معذور افراد کو سماج کے دھارے سے جوڑنے کے لیے بہت ضروری ہے۔ سماج میں معذور افراد اکثر  امتیازی سلوک کے شکار ہوجاتے ہیں اور ان کی حالت عام انسانوں جیسی نہیں ہوتی ہے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ سوسائٹی معذور افراد کو سماجی، سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی ہر پہلو کے مین اسٹریم سے جوڑنے کے لیے مناسب اقدام کرے۔
اقوام متحدہ نے بھی معذور افراد کو با اختیار بنانے کے لیے کئی اقدامات کئے ہیں۔ ایک خودانحصاری زندگی کی خاطر اپنی صلاحیتوں  کو بروئے کار لانے کے  لئے معذور افراد میں اعتماد پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ عالمی یوم معذور،  معذور افراد کو حقوق انسانی اور مسرت کے یکساں لمحات کی فراہمی کے لیے اقدام کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے تاکہ معزور افراد معاشرے میں اپنی حصہ داری کو بخوبی ادار کر سکے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ۱۹۸۲ میں معذور افراد کے لئے  دنیا بھر میں عملی  اقدا م کے  ایک پروگرام کا آغاز کیا تھا۔ در اصل اقوام متحدہ نے   تمام انسانوں کو ان کے مذاہب، ذات، اقتصادی حالات اور جسمانی صلاحیتوں سے قطع نظر مساوی حقوق فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔سماجی انصاف تمام افراد کو یکساں بنیادی حقوق فراہمی کی توقع کرتا ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ کے مطابق، ہر شخص "بے روزگاری، بیماری، معذوری،بیوگی، بڑھاپا یا قابو سے باہر کے حالات اور زندگی کی دیگر بحرانی حالات میں تحفظ کا حق رکھتا ہے۔ 
عالمی یوم معذور پر مختلف طرح کی پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں۔ حقوق انسانی اور رضا کار تنظیموں کی جانب سے کمپین کیا جاتا ہے اور معذروں کے کام کے حق کے سلسلے میں بیداری لائی جاتی ہے۔ ریلیاں نکالی جاتی ہیں تاکہ  لوگ معذوروں کی امداد کے لیے  اپنی مرضی سے آگے آئیں  اور  لوگو ں سے یہ بھی توقع کی جاتی ہے کہ وہ جسمانی معذور افراد کو فیصلہ سازی میں مدد دیں۔
۱۹۸۱ کو معذوروں کا بین الاقوامی سال قرار دیا گیا تھا اور یکساں مواقع کی فراہمی ، معذوری کی روک تھام اور باز آباد کاری کے مشن کے ساتھ کئی منصوبے شروع کیے گئے تھے جن کو قومی، بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر مشتہر کیا گیا تھا۔