Thursday, 14 September 2017

World Suicide Prevention Day

عالمی یوم انسداد خود کشی
۱۰ ستمبر
عالمی یوم انسداد خود کشی (World Suicide Prevention Day)۱۰ ستمبر کو پوری دنیا میں منایا جاتا ہے۔ یہ عالمی سطح پر خود کشی کے رجحان کو روکنے اور کم کرنے کے لیے  لوگوں میں بیداری لانے کی غرض سے ۲۰۰۳ ء سے منایا جاتا ہے۔ عالمی انجمن برائے انسداد خود کشی (International Association for Suicide Prevention) ،عالمی تنظیم صحت (WHO)اور عالمی اتحاد برائے ذہنی صحت (World Federation for Mental Health) کے اشتراک سے عالمی یوم انسداد خود کشی کو منایا جاتا ہے۔ ۲۰۱۱ میں اس دن کو منانے کے لیے ۴۰ ممالک میں بیداری لانے کا ہدف متعین کیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ نے ۱۹۹۰ میں انسداد خود کشی کے لیے قومی پالیسی جاری کیا تھا جس کو چند ممالک اپنے یہاں خود کشی کی بنیادی پالیسی کے طورپر تسلیم کرتے ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق ۲۰۱۱ میں پورے سال میں ایک ملین لوگوں نے خود کشی کرکے اپنی جان دے دی اس طرح ہر ۴۰ سکینڈ پر ایک موت یا روزانہ تین ہزار اموات کی شرح درج کی گئی ہے۔ خودکشی ۱۵-۲۴ سال کی عمر کے لوگوں کی موت کا بنیادی سبب ہے۔ عالمی سروے کے مطابق لوگوں کی موت ۱۳ واں بڑا سبب ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق دنیا بھر میں تشدد کے سبب موت کا نصف خود کشی کے سبب سے ہوئی موت ہے۔ برین مشرا صدر آئی اے ایس پی کا کہنا ہے کہ تمام جنگوں، دہشت گردانہ کارروائیوں، داخلی تشدد میں جنتی اموات ہوتی ہیں اس سے زیادہ لوگ اپنے آپ کو موت کے گھاٹ اتار لیتے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق ۲۰۲۰ تک خود کشی سے مرنے والوں کی تعداد 1.5 ملین ہوجائے گی۔
زہریلی دوائیں، پھانسی، چھت سے چھلانگ لگانا، ٹرین کے آگے سوجانا اور اپنے آپ کو گولی مار لینا خود کشی کے عام طریقے ہیں۔
خوکشی کو روکنے کے کیا جاسکتا ہے؟
جس شخص کے بارے میں آپ کو تشویش یا خطرہ لاحق ہے اس سے خود کشی کے بارے میں بات کریں۔ اس کی باتوں اور مسائل کو سنجیدگی سے سنیں۔
ایسا شخص جس پر اعتماد کرتا ہوں جیسے خاندان کے افراد اور دوست ، استاد یا کوئی بھی اس سے ربط بڑھانے کی حوصلہ افزائی کریں۔ اور ماہر ڈاکٹر اور نفسیات کے ماہرین سے مشورہ لیں۔
جس پر خطرہ لاحق ہو اس کو تنہا نہ چھوڑیں اور فورا اس کے قریبی لوگوں کو اس کی اطلاع دیں۔
اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ایسے شخص کے پاس اپنے آپ کو نقصان پہنچانے والی اشیا مثلا زہر، پستول، بندوق وغیرہ نہیں ہیں۔ زندگی کو نقصان پہنچانے والی تمام چیزوں سے اس کو دور کرنے کی کوشش کی جائے۔
ہمیشہ اس کے رابطے میں رہا جائے۔
ایسے لوگوں کو پیار اور محبت سے زندگی کا احساس دلایا جائے۔ جس چیز سے اس میں زندگی کے تئیں مایوسی پیدا ہوئی اس تعلق سے مثبت راستوں پر اس سے بات کی جائے۔ اس پر کوئی زور زبردستی نہ کی جائے بلکہ پیار ومحبت کے ساتھ اس سے سلوک رکھاجائے۔


Hindi Day

یوم ہندی
۱۴ ستمبر
ہندی ہماری قومی زبان ہے۔ ۱۴؍ ستمبر کو ہر سال ملک بھر میں یوم ہندی منایا جاتا ہے۔ یہ دن اس لیے منتخب کیا گیا کہ ۱۴ ستمبر ۱۹۴۹ کو دستور ہند کمیٹی نے متفقہ رائے سے ہندی کو ہندوستان کی قومی زبان قرار دیا۔ اس فیصلہ کو عملی جامہ پہنانے اور مشتہر کرنے کے لیے قومی زبان اشتہاری کمیٹی وردھا کے مطابق ۱۹۵۳ سے ۱۴ ستمبر کو ہر سال یوم ہندی منایا جاتا ہے۔
گاندھی جی نے ۱۹۱۸ میں ہندی ساہتیہ سمیلن میں ہندی  کو عوام کی زبان قرار دیتے ہوئے  اسے  قومی زبان بنانے کی تجویز پیش کی تھی ۱۴ ستمبر ۱۹۴۹ کو قومی زبان کے سوال پر ہوئے اختلاف کے بعد بڑے غور و خوض کے بعد ہندی کو قومی زبان بنانے کا فیصلہ لیا گیا جو آئین ہند کے حصہ ۱۷ کے باب ۱؍ کی دفعہ(۱) ۳۴۳ میں بیان کیا گیا ہے:
’’یونین کی سرکاری زبان ہندی اور رسم الخظ ہندی ہوگا۔ یونین کے سرکاری اغراض کے لیے استعمال کئے جانے والوں ہندسوں کی شکل بین الاقوامی ہوگی۔ ‘‘
یوم ہندی کے موقع پر مختلف طرح کی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ اس دن طلبہ وطالبات کو قومی زبان ہندی کو احترام دینے اور روز مرہ کی زندگی میں ہندی کو استعمال میں لانے کی تعلیم دی جاتی ہے جس میں ہندی میں مضمون نویسی، ڈبیٹ، ہندی ٹائپنگ؍ کمپوزنگ کے مقابلے ہوتے ہیں۔مضمون نویسی میں ہندی کی ترقی اور اس کو عام کرنے کے لیے لوگوں سے مشورے بھی طلب کئے جاتے ہیں۔
اس دن کے منانے کا مقصد لوگوں میں ہندی کے تئیں یہ بیداری لانا ہے جب تک وہ ہندی کا استعمال مکمل طریقے سے نہیں کریں گے تب تک ہندی زبان کی ترقی نہیں ہوسکتی ہے۔ اس دن تمام سرکاری دفاتر میں ایک دن انگریزی کی جگہ صرف ہندی میں کام کرنے کا مشورہ دیاجاتا ہے۔
۱۴ ستمبر کو قومی زبان ہفتہ ؍ ہندی ہفتہ کی شروعات بھی کی جاتی ہے اور اس پورے ہفتے میں الگ الگ طرح کے مقابلوں کا انعقاد کیاجاتا ہے۔
یوم ہندی پر ہندی کے تئیں لوگوں کو رغبت دلانے کے لیے بھاشا سمان (اعزاز زبان) کی شروعات کی گئی۔ یہ اعزاز ہر سال ملک کے ایسی شخصیت کو دیا جاتا ہے جس نے عوام میں ہندی زبان کے استعمال اور فروغ میں اہم رول ادا کیا ہے۔ ۔پہلے یہ انعام کسی سیاسی لیڈر کے نام پر دیاجاتا ہے لیکن اب  اس کا نام ’’راج بھاشا کرتی پرسکار‘‘ اور ’’راج بھاشا گورو پرسکار ‘‘ کردیا گیا ہے۔
راج بھاشا گورو پرسکار:  
راج بھاشا گورو پرسکار تکنیکی یا سائنس کے موضوع پر لکھنے والے کسی بھی ہندوستانی شہری کو دیا جاتا ہے۔ اس کے تحت دس ہزار سے دو لاکھ روپے تک کے تیرہ انعامات دیئے جاتے ہیں۔ اول انعام دو لاکھ (2,00,000)، دوئم انعام ڈیڑھ لاکھ (1,50,000)اور سوئم انعام پچھتر ہزار  (75,000) روپے دیئے جاتے ہیں۔ جبکہ دس افراد دس دس ہزار روپے حوصلہ افزا انعام بھی دیئے جاتے ہیں۔ انعام پانے والی شخصیات کو مومنٹو بھی دیا جاتا ہے۔ اس انعام کا مقصد تکنیک اور سائسنس کے شعبہ میں ہندی زبان کو فروغ دینا ہے۔
راج بھاشا کرتی پرسکار:
اس کے تحت کل انتالیس انعامات دیئے جاتے ہیں۔ یہ انعام کسی کمیٹی، شعبہ اور گروپ کو ہندی کے لیے قابل ذکر خدمات انجام دینے پر دیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد سرکاری دفاتر میں ہندی زبان کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔


Tuesday, 31 January 2017

عالمی یوم سرطان(کینسر)

عالمی یوم سرطان(کینسر)
(World Cancer Day, विश्व कैंसर दिवस)
4 فروری
عالمی یوم سرطان ہر سال ۴ فروری کو منایا جاتا ہے. جدید دنیا میں کینسر ایک ایسی بیماری ہے جس سے سب سے زیادہ اموات ہوتی ہیں اور دنیا میں اس بیماری کی زد میں سب سے زیادہ مریض ہیں. تمام کوششوں کے باوجود کینسر کے مریضوں کی تعداد میں کوئی کمی نہیں آ رہی ہے. اسی وجہ سے عالمی ادارہ صحت (WHO) نے ہر سال 4 فروری کو عالمی یوم سرطان  کے طور منانے کا فیصلہ کیا تاکہ لوگوں کو اس مہلک بیماری سے ہونے والے نقصان سے آگاہ کیا جا سکے. ایسا مانا جا رہا ہے 2030 تک کینسر کے مریضوں کی تعداد 1 کروڑ سے بھی زیادہ ہو سکتی ہیں. ایک اندازے کے مطابق 2005 میں 7.6 ملین افراد کینسر سے موت کی آغوش چلے میں گئے. اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے مرنے سے اور عالمی سطح پر اس بیماری کے پھیلنے سے سب فکر مند ہیں.
آغاز
عالمی یوم سرطان پہلی مرتبہ ۲۰۰۵ میں منایا گیا تھا اور تب سے ہر سال اس دن کو کینسر کے تئیں لوگوںمیں بیداری لانے کے لیے منایا جارہا ہے۔ ہندوستان میں بھی اس دن تمام صحت تنظیموں نے بیداری پھیلانے کا فیصلہ لیا ہے. ہندوستان ان ممالک میں سرفہرست ہے جہاں تمباکو اور دیگر منشیات کی وجہ سے کینسر کے مریضوں کی تعداد بہت زیادہ ہے. کینسر ایک ایسی مہلک  بیماری ہے جس کا علاج تو ابھی تک ممکن نہیں ہو پایا ہے لیکن اس پر قابو پانا اور اس سے بچاؤ ممکن ہے.کسی کو اگر یہ مرض لاحق ہوجائے تو اس سے چھٹکارا پانا گرچہ مشکل ہے لیکن نا ممکن نہیں ہے۔ مریض اگر کامل یقین اور قوت ارادی سے اس بیماری کا سامنا کرے اور صحیح وقت پر علاج کرائے تو  اس کا علاج ممکن ہو جاتا ہے. یہ بھی جان لینا چاہئے کہ کینسر سے بچنے کے لیے علاج سے بہتر احتیاط ہے۔
احتیاط وہوشیاری:
کینسر سے بچنے کے لئے تمباکو کی مصنوعات کا استعمال نہ کیا جائے۔ کینسر کا خطرہ بڑھانے والے انفیکشن سے احتیاط لازمی ہے۔ چوٹ وغیرہ کا وقت پر علاج کرنے کے ساتھ خود کو ہمیشہ صحت مند رکھنے کی کوشش کی جائے۔ کینسر کے زیادہ تر کیس پھیپڑے اور گالوں میں سامنے آتے ہیں جو تمباکو نوشی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ایسے حالات میں علاج انتہائی پیچیدہ ہوجاتا ہے اور مریض کے بچنے کا امکان کم رہتا ہے۔  آج کل خواتین کے پستان میں کینسر کے معاملات بھی بہت زیادہ سامنے آئے ہیں۔ یہ بھی بڑا خطرناک ہوتا ہے۔ اس میں بہت زیادہ زخم ہوجاتا ہے۔ اگر صحیح وقت پر اگر اس کی علامات کی پہچان کر کے علاج شروع کیا جائے تو اس کا علاج انتہائی آسان اور سادہ بن جاتا ہے. کینسر کا سب سے زیادہ خطرہ ان نوجوانوں کو رہتا ہے جو آج کل کی بھاگ دوڑ بھری زندگی میں خود کو کشیدگی بچانے کے لئے سگریٹ نوشی کا سہارا لیتے ہیں.دنیا کو کینسر کے مہلک مرض سے نجات دلانے کے لیے ہم سب کو قدم بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے آپ کو تمباکو نوشی سے بچانے ساتھ اپنے رشتہ داروں اور ملنے جلنے والوں کو تمباکو، سگریٹ، شراب اور دیگر منشیات سے بچنے کی تلقین کریں۔
کینسر کیا ہوتا ہے
جسم کے خلیات کے گروپ کی غیر بے قابو  اضافہ کینسر ہے. جب یہ خلیے ٹشو کو متاثر کرتے ہیں تو کینسر جسم کے دوسرے حصوں میں پھیل جاتا ہے. کینسر کسی بھی عمر میں ہو سکتا ہے. لیکن اگر کینسر کا صحیح وقت پر پتہ نہ لگایا گیا اور اس کا علاج نہیں کیا گیا تو اس سے موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے. کینسر کی کئی قسمیں ہیں۔ سو سے زیادہ شکلیں اس کی اب تک سامنے آچکی ہیں۔ جیسے- پستان  کینسر، سروائكل کینسر، دماغ میں کینسر، بون کینسر، مثانے میں کینسر، پینكرياز  میں کینسر، پروسٹیٹ کینسر، بچہ دانی میں کینسر، گردے میں کینسر، پھیپھڑوں میں کینسر، جلد میں کینسر، پیٹ میں کینسر، تھائرائڈ کینسر، منہ کا کینسر، گلے کا کینسر وغیرہ.
کینسر کی وجوہات:
کینسر کئی طرح کا ہوتا ہے اور ہر کینسر کے ہونے کے الگ الگ وجوہات ہیں. لیکن کچھ اہم اسباب ایسے بھی ہیں جن سے کینسر ہونے کا خطرہ کسی کو بھی ہو سکتا ہے جیسے:
وزن بڑھنا یا موٹاپا.
زیادہ جسمانی سرگرمی نہ ہو.
الکوہل  اور منشیات کا زیادہ مقدار میں استعمال کرنا.
کینسر میں متناسب غذا نہ لینا.
اپنے  معمول میں ورزش کو شامل نہ کرنا.
کینسر کے دیگر اسباب:
کینسر جینیاتی بھی ہو سکتا ہے. کئی مرتبہ کینسر سے متاثر ماں یا باپ کے جین بچے میں بھی آ جاتے ہیں جس سے بچے کو مستقبل میں کینسر ہونے کا خدشہ رہتاہے.
کسی سنگین بیماری کی وجہ سے بھی آپ کو کینسر ہو سکتا ہے. یعنی اگر آپ کسی سنگین بیماری کے لئے ادویات لے رہے ہیں تو ان ادویات کے ضمنی اثرات کی وجہ سے آپ کینسر کے شکار ہو سکتے ہیں.
کئی بار عمر کے بڑھنے کے ساتھ بھی جسم میں چستی پھرتی نہیں رہتی اور عمر کے ایک پڑاؤ پر انسان بیمار پڑنے لگتا ہے، ایسے میں بھی کینسرے ہونے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
کچھ اہم کینسر
ملک میں سب سے زیادہ کینسر سے موت کے واقعات کینسر کے ان واقعات میں سامنے آئے ہیں:
خواتین میں بریسٹ کینسر، رحم (بچہ دانی) کینسر اور سروائكل کینسر سے سب سے زیادہ اموات ہوتی ہیں۔
مردوں میں سب سے زیادہ موت پھسپھس(Pleura) پیٹ، جگر، كولیسٹرول اور برین کینسر سے ہوتی ہے.

کینسر سے مرنے والے میں خواتین کا فیصد مردوں سے زیادہ ہے.

محافظ ساحل ہند

محافظ ساحل ہند
(Indian Coast Guard, भारतीय तटरक्षक)
یکم فروری
ہندوستان میں  محافظ ساحل ہند  ہندوستان سمندروں کے مفادات کا تحفظ اور اس کے سمندری سرحدوں، اس سے متصل زون اور خصوصی معاشی زون کے ساتھ  سمندری قوانین کا نفاذ کرتا ہے۔
محافظ ساحل  ہند کا قیام ہندوستان کے سمندروں کے تحفظ کے مقصد سے ۱۸؍ اگست ۱۹۷۸ کو یونین کے ایک آزاد مسلح فوج کی شکل میں پارلیامنٹ کے ذریعہ محافظ ساحل ایک ۱۹۷۸ کے تحت کی گئی۔ سنسکرت کا ایک جملہ वयम् रक्षाम: یعنی ہم حفاظت کرتے ہیں اس کا ماڈل جملہ ہے۔ محافظ ساحل انڈین نیوی، محکمہ ماہیات (Dept. of Fisheries)اور محکمہ آمدنی(Dept. of Revenue)  (کسٹمز)اور مرکزی اور ریاستی پولیس فورس کے خصوصی تعاون کے ساتھ چلتا ہے۔
بھارت میں محافظ ساحل (کوسٹ گارڈ )ٍکی تشکیل سمندر میں ہندوستان کے قومی دائرہ کار کے اندر قومی قوانین کو نافذ  کرنے اور زندگی اور املاک کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے ایک نئی سروس کے طور پر 01 فروری 1977 کو ہوئی تھی. اس بات کی ضرورت محسوس کی گئی کہ بحری افواج  کو اس  کے جنگی زمانے کے کاموں کے لئے علاحدہ رکھا جانا چاہئے اور  قوانین کے نفاذ کی ذمہ داری کے لئے ایک مختلف سروس کا قیام کیا جائے، جوکہ مکمل اور ترقی یافتہ ممالک جیسے امریکہ اور متحدہ ریاستوں کے محافظین ساحل کی طرز پر بنائی گئی ہو۔
اس منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے ستمبر ۱۹۷۴ میں ایف رستم جی کی صدارت میں سمندر میں اسمگلنگ کے مسائل سے نبرد آزما ہونے اور محافظ ساحل جیسی تنظیم کے قیام پر غور و خوض کرنے کے لیے ایک کمیٹی کی تشکیل کی گئی۔ اس کمیٹی نے ایک ایسی محافظ ساحل سروس کی سفارش کی جو وزارت دفاع کے انتظامی کنٹرول میں بحری افواج کی طرز پر کام کرے اور پر امن حالات میں ہمارے سمندروں کا تحفظ کرے۔ ۲۵ اگست ۱۹۷۶ کو ہندوستان کا بحری علاقہ ایکٹ Maritime Zones Actمنظور ہوا۔ ایک ایکٹ کے تحت ہندوستان نے 2.01 لاکھ مربع کیلو میٹر سمندری علاقے کا دعوی کیا جس میں ہندوستان کو زندہ اور مردہ دونوں وسائل کی تفتیش اور استحصال کا خصوصی حق مل گیا۔ اس کے بعد کابینہ کی طرف سے 01 فروری 1977 سے ایک عبوری محافظ ساحل تنظیم کے قیام کا فیصلہ کیا گیا. 18 اگست 1978 کو یونین کی ایک آزاد مسلح فوج کے طور پر ہندوستانی پارلیمنٹ کے ذریعہ سے محافظ ساحل ایکٹ، 1978 کے تحت محافظ ساحل ہند (انڈین کوسٹ گارڈ)  کا باقاعدہ طور پر افتتاح کیا گیا۔ یہ دن اسی کی یاد گار ہے۔
مقاصد:
محافظ ساحل ہند  کے درج ذیل مقاصد ہیں:
ہمارے سمندر اور تیل، ماہیات (مچھلی) اور معدنیات (Minerals) سمیت غیر ملکی اثاثوں کا تحفظ: شورش زدہ ملاحوں کی مدد اور سمندر میں جان مال کی حفاظت: سمندر، نقل و حمل، غیر مختار مچھلی کا  شکار، اسمگلنگ اور منشیات سے متعلق سمندری قوانین کا نفاذ: سمندری ماحول اور ماحولیات کو تحفظ فراہم کرنا اور معدوم ونایاب چرند وپرند کا تحفظ، سائنسی اعداد وشمار کو جمع کرنا اور جنگ کے دوران بحری افوان کی مدد سمیت ہمارے سمندر اور ساحلی اثاثہ جات کا تحفظ وغیرہ محافظ سال ہند (انڈین کوسٹ گارڈ) کا بنیادی مقصد ہے۔
فرائض اور خدمات:
محافظ ساحل ہندی (انڈین کوسٹ گارڈ) ہندوستان کے سمندری علاقوں میں جاری تمام قومی قوانین  کی دفعات کا نفاذ کرنے کے لئے اہم ادارہ ہے، جو قوم اور سمندری کمیونٹی کو درج ذیل خدمات فراہم کرتا ہے۔
ہمارے سمندری علاقوں میں مصنوعی جزائر، ساحلی اثاثہ جانت  اور دیگر ڈھانچوں کے تحفظ اور سرپرستی کو یقینی بنانا۔
ملاحوں  کی حفاظت اور سمندر میں مصیبت کے وقت ان کی امداد
سمندری آلودگی کا تصفیہ اور کنٹرول سمیت سمندری ماحولیات کی سرپرستی اور تحفظ۔
اینٹی اسمگلنگ مہمات میں محکمہ آمدنی (کسٹمس) اور دیگر حکام کا تعاون،
بھارتی سمندری وانین کا نفاذ۔
سمندر میں جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے ضروری اقدامات۔
تنظیم:
محافظ ساحل ہند (انڈین کوسٹ گارڈ) کا  ہیڈ کوارٹر نئی دہلی میں واقع ہے. اس کو پانچ علاقوں میں تقسیم کیا گیا ہے:
مغربی علاقے - علاقائی ہیڈ کوارٹر: ممبئی
مشرقی علاقے - علاقائی ہیڈ کوارٹر: چنئی
شمال مشرقی علاقے - علاقائی ہیڈ کوارٹر: کولکاتا
انڈمان و نکوبار علاقے - علاقائی ہیڈ کوارٹر: پورٹ بلیئر

شمال مغربی علاقے - علاقائی ہیڈ کوارٹر: گاندھی نگر، (گجرات)

Monday, 30 January 2017

عالمی یوم جھیل

جھیلوں کا عالمی دن
(World wetlands Day)
۲ فروری
ہر سال ۲ فروری کو عالمی یوم جھیل منعقد کیا جاتا ہے۔ یہ دن ۲ فروری ۱۹۷۱ میں جھیل کے موضوع پر ہونے والے کنونشن کی یادگار ہے۔ اس دن کے منانے کا مقصد انسانوں اور درختوں کے لیے جھیل کی اہمیت سے لوگوں کو واقف کرانا اور ان کے تئیں ان میں بیداری لانا ہے۔ عالمی یوم جھیل پہلی مرتبہ ۱۹۹۷ میں منایا گیا تھا اور اس کے بعد سے مستقل منایا جاتا ہے۔
جھیل:  
جھیل پانی کا وہ ٹھہرا ہوا حصہ ہے جو چاروں طرف سے زمین سے گھرا ہوتا ہے. عام طور پر جھیل سطح زمین کے وہ وسیع گڑھے ہیں جن میں پانی بھرا ہوتا ہے. جھیلوں کا پانی اکثر ٹھہرا ہوا ہوتا ہے. جھیلوں کی ایک اہم خصوصیت ان کا کھارا پن ہے لیکن کئی جھیلوں کا پانی میٹھا بھی ہے۔
اندرون ملک  تالاب میں پائے جانے والے ٹھہرے ہوئے آبی سلسلے کو جھیل کہتے ہیں جس کا سمندر سے کسی قسم کا تعلق نہیں رہتا. کبھی کبھی اس لفظ کا استعمال دریاؤں کے وسیع و عریض حصے کے لئے اور سمندر کنارے کے اس سلسلہ آب کے لئے بھی کیا جاتا ہے جن کا سمندر سے بالواسطہ تعلق رہتا ہے. اس کی تفصیل میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے تالاب اور سروور سے لے کر میٹھے پاني والے وسیع بڑا سوپیریئر جھیل اور کھارے پانی والے کیسپین ساگر  تک کو بھی جھیل کے ہی کا نام دیا گیا ہے۔ بیشتر جھیلیں سطح سمندر سے اوپر پہاڑی علاقوں میں پائے جاتے ہیں جاتی ہیں جن میں بحیرہ مردار(Dead sea)،  جو سطح سمندر سے نیچے واقع ہے مستثنٰی  ہے. میدانی حصوں میں عام طور پر جھیلیں ان دریاؤں کے قریب پائی جاتی ہیں جن کی ڈھلان کم ہو گئی ہو. جھیلیں میٹھے اور کھارے پاني والے دونوں ہوتی ہیں. جھیلوں کا پانی بنیادی طور بارش،برف کے پگھلنے،یا آبشاروں اور دریاؤں سے حاصل ہوتا ہے.جھیلیں بنتی ہیں، وسیع ہوتی ہیں، آہستہ آہستہ تلچھٹ سے بھر کر دلدل میں بدل جاتی ہیں اور اضافہ  هونے پر نزدیکی سطح زمین کے برابر ہو جاتی ہیں. ایسا خدشہ ہے کہ امریکہ کی برهت جھیلیں 4500 سالوں میں ختم ہو جائیں گی. کرہ زمین پر زیادہ تر جھیلیں شمالی نصف کرے میں واقع ہیں. فن لینڈ میں تو اتنی زیادہ جھیلیں ہیں کہ اسے جھیلوں کا ملک ہی کہا جاتا ہے. یہاں پر 187888 جھیلوں ہیں جس سے 60000 جھیلیں انتہائی بڑی ہیں. زمین پر کئی جھیلیں مصنوعی ہیں جنہیں انسان نے بجلی کی پیداوار، زرعی کاموں اور اپنی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے بنایا ہے .جھیلیں انسانی زندگی کے لیے نہایت  مفید و کارآمد ہیں. مقامی آب و ہوا کو سہانا بنا دیتی ہیں. یہ پانی کے زوروں کو روک لیتی ہیں، جن سے سیلاب کا امکان کم ہوجاتا۔ جھیلوں سے مچھلیاں بھی حاصل ہوتی ہیں.
عالمی یوم جھیل کا موضوع:
ہر سال جھیلوں کی قدر وقیمت کے تئیں عوامی بیداری اور ان توجہ مبذول کرانے کے لیے ایک موضوع کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ مختلف ممالک میں عوامی بیداری کے لیے کئی طرح کے پروگرام جیسے لیکچر، سیمینار،فطری پیدل مارچ (nature walk)بچوں کے آرٹ کا مقابلہ، سمپان دوڑ، صفائی، ریڈیو اور ٹیلیویژن انٹرویو، اخبارات میں مراسلے، جھیلوں کی نئی پالیسی کا اجرا اور نئی جھیلیں اور نئے پروگرام وغیرہ قومی سطح پر منعقد کئے جاتے ہیں۔
سال
موضوعات
2016
جھیل ہمارے مستقبل کے لیے : پائدار ذریعہ معاش
2015
جھیل ہمارے مستقبل کے لیے:
2014
جھیل اور زراعت: ترقی کے ساجھے دار
2013
جھیل پانی کی دیکھ بھال
2012
جھیل سیاحت: ایک عظیم تجربہ
2011
جنگل پانی اور جھیلوں کے لیے
2010
جھیلوں کی نگہبانی: ماحولیاتی تبدیلی کا ایک جواب
2009
 اوپر نیچے: جھیلیں ہمیں ہر جگہ جوڑتی ہیں
2008
توانا جھیل، توانا انسان
2007
کل کے لیے مچھلی
2006
پر خطر ذریعہ معاش
2005
جھیلوں کے تنوع میں دولت ہے، اسے کھونا نہیں۔
2004
پہاڑوں سے سمندر میں: جھیل ہماری خدمت میں
2003
جھیل نہیں تو پانی نہیں
2002
جھیل: آب حیات اور ثقافت
2001
جھیلوں کی دنیا: ایک دریافت کی دنیا
2000
 بین الاقوامی اہمیت کا حامل ہماری جھیلوں کا جشن
1999
جھیل اور لوگ: اہم رابطہ
1998
زندگی کے لیے پانی کی اہمیت اور پانی کے سپلائی میں جھیلوں کا کردار
1997
پہلا عالمی یوم جھیل
دنیا کی چند مشہور جھیلوں سے متعلق معلومات:
دنیا کی سب سے بڑی جھیل کیسپین ساگر ہے جس کا پا نی کھارا ہے۔یہ رقبہ اور حجم کی بنیاد پر بھی سب سے بڑی جھیل ہے۔ یہ روس اور ایران کے درمیان ہے اور ایران کی سرحد کو چھوکر گذرتی ہے۔
  میٹھی پانی کی سب سے بڑی جھیل بحیرہ سپیریئر ہے
دنیا کی سب سے گہری جھیل بے كال جھیل ہے۔
دنیا کی سب سے کھارے پانی والی وان جھیل ہے جو ترکی میں واقع ہے۔
سب سے زیادہ اونچائی پر واقع ٹی ٹی كاكا جھیل ہے۔
بحیرہ عرب قزاقستان میں واقع ہے۔
وکٹوریہ جھیل مشرقی افریقہ میں ہے جو افریقہ بر اعظم کی سب سے بڑی جھیل ہے۔ 
فن لینڈکو ہزار جھیلوں کی زمین کہا جاتا ہے-
نیا سا جھیل افریقہ براعظم میں کون سی جھیل خط استوا پر واقع ہے-
ٹالے سیپ نامی جھیل کمبوڈیا میں واقع ہے-
ریاست ہائے متحدہ امریکہ'انگلي نما جھیلوں' کے لئے مشہور ہے۔
  بحیرہ مردار سمندر سے نیچی جھیل ہے۔
ٹی ٹی كاكا جھیل پیرو اور بولیویا کے درمیان واقع ہے۔
ایرا اور اونٹاریو جھیل کے درمیان  نیاگرا آبشار ہے-
لےڈوگا جھیل روس میں واقع ہے-
مشی گن جھیل امریکہ میں ہے۔
ونيپیگ جھیل کناڈا میں ہے۔

گریٹ سلیو جھیل کناڈا میں ہے۔