Saturday, 28 January 2017

یوم جمہوریہ

یوم جمہوریہ
(Republic Day, गणतंत्र दिवस)
۲۶ جنوری
ہندوستان میں ۲۶ جنوری کو یوم جمہوریہ منایا جاتا ہے۔ ہمارا ملک ہندوستان ۱۵ اگست ۱۹۴۷ کو برطانوی سامراج سے آزاد ہوا۔ اس وقت تک ہمارے ملک میں   گورنمنٹ آف اندیا ایکٹ ۱۹۳۵ نافذ تھا۔ ۲۶ نومبر ۱۹۴۹ کو ملک کو آزاد جمہوریت بنانے اور ملک میں قانون کی حکومت قائم کرنے کے لیے انڈین گورنمنٹ ایکٹ کو منسوخ کر کے اپنا آئین  اختیار کیاگیا اور ۲۶ جنوری ۱۹۵۰ کو اس کو  پورے ملک میں نافذ کیا گیا اور اس طرح ہمارا ملک ایک سچے جمہوری ملک کے صف میں شامل ہوگیا۔ یہ دن اسی کی یادگار ہے۔
تاریخ
دسمبر ۱۹۲۹ میں لاہور میں کانگریس کا ایک اجلاس پنڈت جواہر لال نہرو کی صدارت میں منعقد ہوا تھا جس میں ایک تجویز پاس کرتے ہوئے یہ اعلان کیا گیا کہ اگر برطانوی حکومت ۲۶ جنوری ۱۹۳۰ تک ہندوستان کو ریاست (Dominion) کا درجہ نہیں دیتی ہے، جس کے تحت ہندوستان برطانوی سامراج میں ہی خود مختار اکائی بن جاتا، تو ہندوستان خود کو مکمل آزاد (پورن سوراج) اعلان کردے گا۔ برطانوی حکومت نے متعینہ تاریخ تک کچھ نہیں کیا تو کانگریس نے ۲۶ جنوری ۱۹۳۰ کو مکمل آزادی کے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے فعال تحریک شروع کردی۔ اس دن سے ۱۹۴۷ میں ملک آزادی ہونے تک ۲۶ جنوری یوم آزادی کی شکل میں منایا جاتا رہا تھا۔ اس کے بعد آزادی کے حصول کے حقیقی دن ۱۵ اگست کو یوم آزادی قرار دیا گیا۔آزادی کے بعد ۲۸؍ اگست ۱۹۴۷کو مستقل طور پر آئین سازی کے لیے ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی صدارت میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ۔ کمیٹی نے پہلا مسودہ ۴؍ نومبر ۱۹۴۷ کو پیش  قانون ساز اسمبلی کے سامنے پیش کیا۔ اسمبلی نے ۲؍ سال ۱۱؍ مہینے اور ۱۸؍ دن کی مدت میں مختلف مجالس میں عوام کے درمیان ۱۶۶ دنوں تک پیش کیا۔ کئی طرح کے مشوروں اور ترمیمات کے بعد ۳۰۸ آئین ساز اسمبلی کے ممبران نے ۲۴ جنوری ۱۹۵۰ کو دستاویز کی ذو لسانی (انگریزی اور ہندی) کاپیوں پر دستخط کیا۔ دو دنوں بعد ۲۶ جنوری کو یہ پورے ملک پر نافذ ہوگیا۔


سرگرمیاں:
یوم جمہوریہ کی سب سے بڑی تقریب ملک کی راجدھانی دہلی میں صدر جمہوریہ کی موجودگی میں راج پتھ میں منعقد ہوتی ہے جس میں صدر جمہوریہ ہندوستانی جھنڈے کی پرچم کشائی کرتے ہیں اور تقریب موجود تمام لوگوں کی طرف سے جھنڈے کو سلامی دی جاتی ہے۔  اس دن راج پتھ میں مختلف طرح کے پریڈ   کے ذریعہ ہندوستان کی کثرت میں وحدت اور مستحکم تہذیبی ثقافت کو خراج تحسین پیش کی جاتی ہے۔
یہ ہندوستان کا قومی تیوہار ہے اس لیے دہلی کے ساتھ ساتھ ملک کی تمام تر ریاستوں کی راجدھانیوں، متعلقہ اضلاع کے ہیڈ کوارٹر کے علاوہ تمام سرکاری وغیر سرکاری اداروں اور محکموں میں بھی پرچم کشائی کی جاتی ہے اور قومی پرچم کو سلامی دی جاتی ہے۔لوگ اس دن کو خاص اہتمام کے ساتھ مناتے ہوئے ملک کی جمہوریت کو باقی رکھنے عزم کیا جاتا ہے۔ اس دن کو تعلیمی اداروں میں انتہائی تزک و احتشام کے ساتھ منایا جاتا ہے جس میں بچوں کی جانب سے مختلف طرح کے ثقافتی پروگراموں کا بھی انعقاد کیا جاتا ہے۔

اس دن کی تقریب کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ ۱۹۵۰ سے ہی کسی  دوسرے ملک کے سربراہ نئی دہلی کی تقریب میں مہمان کی حیثیت سے شرکت کرتے ہیں۔
سال  
مہمان
ملک
۱۹۵۰
صدر سکارنو
انڈونیشیا
۱۹۵۱
راجا تری بھون بیر بکرم شاہ
نیپال
۱۹۵۲


۱۹۵۳


۱۹۵۴
بادشاہ جگمے دور جی وانگ چک
بھوٹان
۱۹۵۵
گورنر جنرل ملک غلام محمد
پاکستان
۱۹۵۶


۱۹۵۷


۱۹۵۸
مارشل یے جیان ینگ
چین
۱۹۵۹


۱۹۶۰
چیرمین کلیمنٹ وورو شیلوو
سویت یونین
۱۹۶۱
ملکہ الزبتھ
برطانیہ
۱۹۶۲


۱۹۶۳
راجا نوروم سیہانوک
کمبوڈیا
۱۹۶۴


۱۹۶۵
وزیر خوراک و زراعت رانا عبد الحمید
پاکستان
۱۹۶۶


۱۹۶۷


۱۹۶۸
چیرمین الیکزی کوسیجن
سویت یونین
صدر جوسپ بروز ٹیٹو
یوگو سلاویہ
۱۹۶۹
وزیر اعظم ٹو ڈر زیوکوو
بلگاریہ
۱۹۷۰


۱۹۷۱
صدر، جولیس نائریر
تنزانیہ
۱۹۷۲
وزیر اعظم سی ووساگر رام گولام
ماریشش
۱۹۷۳
صدر، موبوٹو سے سے سیکو
زائر
۱۹۷۴
صدر جوسپ بروز ٹیٹو
یوگو سلاویہ

وزیر اعظم سری ماوو بندرا نائک
شری لنکا
۱۹۷۵
صدر کین نتھ کونڈا
زمبیا
۱۹۷۶
وزیر اعظم جیکوئیس شیراک
فرانس
۱۹۷۷
فرسٹ سکریٹری، ایڈورد گیرگ
پولینڈ
۱۹۷۸
صدر، پیٹرک ہیلری
آئیر لینڈ
۱۹۷۹
وزیر اعظم مالکوم فریزر
اسٹریلیا
۱۹۸۰
صدر، ویلری گیسکارڈ ڈی اسٹینگ
فرانس
۱۹۸۱
صدر، ویلری لوپز پورٹیلو
میکسیگو
۱۹۸۲
کنگ جان کارلس
اسپین
۱۹۸۳
صدر، شیہو شگاری
نائجیریا
۱۹۸۴
کنگ جگمے سنگے وانگ چک
بھوٹان
۱۹۸۵
صدر، الفونسن
ارجنٹینا
۱۹۸۶
وزیر اعظم، انڈریس پپنڈریو
جرمن
۱۹۸۷
صدر الان گریسا
پیرو
۱۹۸۸
صدر، جے آر جے وارڈنس
شری لنکا
۱۹۸۹
جنرل سکریٹری نگویین وان لین
ویتنام
۱۹۹۰
وزیر اعظم انیرود جگ ناتھ
ماریشش
۱۹۹۱
صدر مامون عبد القیوم
مالدیپ
۱۹۹۲
صدر، ماریو سورس
پرتگال
۱۹۹۳
وزیر اعظم جان میجر
برطانیہ
۱۹۹۴
وزیر اعظم گوہ چوک تونگ
سنگا پور
۱۹۹۵
صدر ، نیلسن مندیلا
جنوبی افریقہ
۱۹۹۶
صدر فرنانڈو ہینریک
برازیل
۱۹۹۷
وزیر اعظم، باسدیو پانڈے
ترینی داد ایند توباگو
۱۹۹۸
صدر، جیکوئیس شیراک
فرانس
۱۹۹۹
راجا بیر بکرم دیو
نیپال
۲۰۰۰
صدر، الوسگن اوباسنجو
نائجیریا
۲۰۰۱
صدر، عبد العزیز باؤت فیلکا
الجیریا
۲۰۰۲
صدر، کس سام اوتیم
ماریشش
۲۰۰۳
صدر، محمد ختامی
ایران
۲۰۰۴
صدر، لوئیس اینیسیو لولا دا سیلوا
برازیل
۲۰۰۵
راجا جگ مے سنگیے وانگ چک
بھوٹان
۲۰۰۶
ملک عبد اللہ بن عبد العزیز السعود
سعودی عربیہ
۲۰۰۷
صدر ولادیمور پوتن
روس
۲۰۰۹
صدر ، نور السلطان نذر بے
قزاقستان
۲۰۱۰
صدر، لی میونگ بیک
جنوبی افریقہ
۲۰۱۱
صدر، سوسیلو بمبانگ یوہویونو
انڈونیشیا
۲۰۱۲
وزیر اعظم، ینگ لک شنواترا
تھائی لینڈ
۲۰۱۳
راجا جگ مے کھیسر نام گیل وانگ چک
بھوٹال
۲۰۱۴
وزیر اعظم، شنزو آبے
جاپان
۲۰۱۵
صدر، براک حسین اوبامہ
امریکہ
۲۰۱۶
وزیر اعظم، فرینکویس ہالینڈے
فرانس
۲۰۱۷
شہزادہ محمد بن زیاد النہیان
متحدہ عرب امارات

Tuesday, 24 January 2017

قومی یوم رائے دہندگان


قومی  یوم رائے دہندگان
۲۵ جنوری
 ۲۵ جنوری کو قومی یوم رائے دہندگان منایا جاتا ہے. اسی دن ۱۹۵۰ میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کا قیام عمل میں آیا تھا. اسی دن کی مناسبت سے ۲۰۱۱ میں اس وقت کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے اس دن کو قومی یوم رائے دہندگان منانے کا فیصلہ کیا. اس دن کا مقصد رائے دہندگان میں اضافہ کرنا ہے بطور خاص نوجوان رائے دہندگان جن کی عمر ابھی ۱۸ سال ہوئی ہے۔ اور جمہوریت کے استحکام کے لیے رائے دہی کے عمل میں حصہ لینے کے لیے نوجوان اور عوام میں بیداری لانا ہے۔
جمہوریت کی ایک بہت اہم تعریف جو ابرہم لنکن نے کی ہے وہ یہ ہے کہ:
‘‘عوام کی حکومت عوام کے ذریعہ اور عوام کے لیے’’
عوام کے ذریعہ حکومت اس لیے ہوتی ہے کہ اس میں ملک کا ہر شہری  نسل، ذات، قبیلہ، زبان مذہب اور دیگر تمام طرح کے امتیازات سے بلند ہو کر  نمائندوں کے انتخاب کے لیے حق رائے دہی کرتا  ہے۔ ہر شہری کے ووٹ کی قدر (Value) مساوی ہوتی ہے۔ ہمارے ملک ہندوستان میں ۱۸؍ سال کی عمر مکمل کر لینے کے بعد ہر شہری حق رائے دہی کا اہل ہو جاتا ہے۔ اس کے لیے فہرست رائے دہندگان میں نام کا اندراج کروانا پڑتا ہے۔ اس لسٹ میں نام شمولیت کے بعد الیکشن کمیشن اس کو حق رائے دہی کا شناختی کارڈ بھی جاری کرتا ہے جو ووٹ ڈالنے کے علاوہ ملک میں دیگر کاموں میں شناخت کے لیے کام آتا ہے۔ یہ دن خاص طور پر نئے رائے دہندگان یعنی جن کی عمر ۱۸ سال مکمل ہوئی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ وہ اپنا نام ووٹر لسٹ میں درج کرائیں تاکہ وہ انتخاب میں حق رائے دہی کا استعمال کرسکیں۔
اس دن کا تصور:
سابق چیف الیکشن کمیشن ایس وائی قریشی اپنے ایک مضمون میں یہ بتاتے ہیں کہ ۲۰۱۰ میں بھونیشور (اڑیسہ) کے ایک نوجوان نے کہا کہ ۱۸ سال وہ عمر ہے جس میں جشن منایا جانا چاہئے۔(کیونکہ اس  عمر میں شہری حق رائے دہی کا اہل ہو جاتا ہے) اس کے لیے ہر سال کم از کم ایک دن ایسا ہو جو ۱۸ سال کی عمر کے لوگوں کے لیے منسوب ہو. مذکورہ لڑکے کے اسی تصور کے بعد اس دن کو منانے کا خیال ذہن میں آیا اور پھر اس کو منانے کا فیصلہ لیا گیا.
۱۴ جنوری ۲۰۱۶ مت داتا مہوتسو (رائے دہندگان کا تیوہار) کا افتتاح کرتے ہوئے موجودہ چیف الیکشن کمشنر ڈاکٹر نسیم زیدی نے کہا کہ قومی یوم رائے دہندگان ہر فرد کے ووٹ کی طاقت کی پہچان ہے. جمہوریت کی کامیابی کے لیے جمہوری انتخاب اور رائے دہی کے عمل میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کی شرکت لازمی ہے. رائے دہندگان جمہوری ادارے کی بنیادیں ہیں. اس لیے الیکشن کمیشن ملک کے ہر نوجوان کی انتخابی عمل تک رسائی اور رائے دہی کے عمل میں بیدار  وفعال شراکت کی حوصلہ افزائی کرتی ہے. 
سرگرمیاں:
اس دن تمام پولنگ مراکز پر بی ایل او (بوتھ لیول افسر) موجود ہوتے ہیں۔ تعلیمی اداروں کے ذریعہ مختلف طرح کے پروگرام مثلا ریلیاں، تحریری مقابلے، پینٹگس کے مقابلے منعقد ہوتے ہیں۔ پولنگ مراکز پر رنگولیاں بنائی جاتی ہے۔ اس دن نئے رائے دہندگان کو ایک حلف بھی دلایا جاتا ہے:
‘‘ہم بھارت کے شہری جمہوریت میں مکمل یقین رکھتے ہوئے عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنے ملک کی جمہوری روایتوں کی تکریم کرتے رہیں گے اور ملک کے آزاد، غیر جانب دار اور پر امن انتخاب کے وقار کو ملحوظ رکھتے ہوئے بے خوف ہو کر مذہب، زمرہ، ذات، کمیونٹی، زبان یا دیگر کسی بھی لالچ سے متاثر ہوئے بغیر تمام انتخابات میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ ’’
الیکشن کمیشن کے ذریعہ ہر سال ایک اس دن کے لیے ایک موضوع بھی منتخب کیا جاتا ہے۔ جیسے ۲۰۱۵ میں اس کا موضوع تھا ‘‘آسان رجسٹریشن آسان اصلاح’’

۲۰۱۶ میں ‘‘جامع اور معیاری انتخابی شراکت’’ (Inclusive and Qualitative Electoral Participation) اور نعرہ ‘‘کوئی رائے دہندہ پیچھے نہ چھوٹے’’  تھا۔ 

قومی یوم بنات

قومی یوم بنات
۲۴؍ جنوری
قومی یوم بنات 24 جنوری کو منایا جاتا ہے. 24 جنوری کے دن کو عورت کی طاقت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے. اس دن اندرا گاندھی پہلی بار وزیر اعظم کی کرسی پر بیٹھی تھیں اس لئے اس دن کو قومی یوم بنات کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے. یہ فیصلہ قومی سطح پر لیا گیا ہے. آج کی بچیاں زندگی کے ہر میدان میں آگے بڑھ رہی ہیں. خواہ وہ  کھیل کا میدان ہو یا سیاست کا، گھر ہو یا صنعت. دولت مشترکہ کھیلوں کے گولڈ میڈل ہوں یا وزیر اعلی اور صدر کے عہدے پر فائز ہو کر ملک کی خدمت کرنے کا کام ہو تمام شعبوں میں لڑکیاں یکساں طور پر شریک ہو رہی ہیں.⁠⁠⁠⁠
منانے کا سبب
آج بچیاں ہر میدان میں آگے بڑھ رہی ہیں  لیکن آج بھی وہ مختلف  طرح کی تعصبات کی شکار ہیں. یہ تعصب  اس کے آگے بڑھنے میں رکاوٹیں پیدا کرتی ہیں. پڑھے لکھے لوگ اور بیدار سماج بھی اس مسئلے سے اچھوتا نہیں ہیں . آج ہزاروں لڑکیوں کو پیدا ہونے  سے پہلے ہی مار دیا جاتا ہے یا پیدا ہوتے ہی لاوارث چھوڑ دیا جاتا ہے. آج بھی معاشرے میں بہت سے گھر ایسے ہیں، جہاں بیٹیوں کو بیٹوں کی طرح اچھا کھانا اور اچھی تعلیم نہیں دی جا رہی ہیں.
ہندوستان میں 20 سے 24 سال کی شادی شدہ عورتوں میں سے 44.5 فیصد (تقریبا نصف) عورتیں ایسی ہیں جن کی شادیاں 18 سال ست پہلے ہوئی ہیں. ان 20 سے 24 سال کی شادی شدہ عورتوں میں سے 22 فیصد (تقریبا ایک چوتھائی) عورتیں ایسی ہیں جو 18 سال کے پہلے ماں بن گئی ہیں. ان کم عمر لڑکیوں سے 73 فیصد (سب سے زیادہ) بچے پیدا ہوئے ہیں. ان بچوں میں 67 فیصد (دو تہائی) غذائی قلت کا شکار ہیں.
قتل جنین (ماں کے پیٹ کا بچہ) کی وجہ سے لڑکیوں کے تناسب میں بڑی کمی آئی ہے. پورے ملک میں جنسی تناسب 1000: 933  (ایک ہزار مرد پر نو سو تینتیس) ہے.
ترقی کی شرح میں کمی
1991 کی مردم شماری سے 2001 کی مردم شماری تک، ہندو اور مسلمانوں دونوں کی ہی آبادی میں اضافہ کی شرح میں کمی آئی ہے. 2001 کی مردم شماری کے یہ حقائق سب سے زیادہ حیران کن ہیں کہ 0 سے 6 سال کے بچوں کی جنسی تناسب میں بھی بڑی گراوٹ آئی ہے. یہاں کل جنسی تناسب میں 8 کے فرق کے مقابلے بچوں کی جنسی تناسب میں اب 24 کا فرق درج ہے. یہ ان کی صحت اور زندگی کی سطح میں کمی کا تناسب بھی ہے. یہ فرق خوفناک مستقبل کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے. ایشیا براعظم میں ہندوستان کی خاتون خواندگی کی شرح سب سے کم ہے. غور طلب ہے کہ کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال یعنی 'نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چلڈرنس رائٹس'  کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ہندوستان میں 6 سے 14 سال تک کی زیادہ تر لڑکیوں کو ہر دن اوسطا 8 گھنٹے سے بھی زیادہ وقت صرف اپنے گھر کے چھوٹے بچوں کی دیکھ بھال میں گزارنا پڑتا ہے. اسی طرح، سرکاری اعداد و شمار میں دکھایا گیا ہے کہ 6 سے 10 سال کی 25 فیصد لڑکیوں کو جہاں  اسکول چھوڑنا پڑتا ہے، وہیں 10 سے 13 سال کی 50 فیصد (ٹھیک دوگنی) سے بھی زیادہ لڑکیوں کو اسکول چھوڑنا پڑتا ہے. 2008 کے ایک سرکاری سروے میں 42 فیصد لڑکیوں نے یہ بتایا کہ وہ اسکول اس لیے چھوڑ دیتی ہیں، کیونکہ ان کے والدین انہیں گھر سنبھالنے اور اپنے چھوٹے بھائی بہنوں کی دیکھ بھال کرنے کو کہتے ہیں. لوگوں کو اس کے برے نتائج سے آگاہ کرنے اور لڑکیوں کو بچانے کے لئے 24 جنوری کو قومی یوم بنات منایا جاتا ہے.
ترقی میں رکاوٹ:
لڑکیوں کے آگے نہ بڑھنے کی وجہ یہ بھی ہے کہ اکثر گھروں میں کہا جاتا ہے کہ اگر لڑکی ہے، تو انہیں گھر سنبھالنے اور اپنے چھوٹے بھائی بہنوں کی دیکھ بھال کرنے کی زیادہ ضرورت ہے. اس طرح کی باتیں اس بہتری کی راہ میں رکاوٹ  بنتی ہیں. انہی حالات اور امتیازات کو مٹانے کی غرض سے 'یوم بنات' منانے پر زور دیا جا رہا ہے.
ان وجوہات پر بھی غور کرنا جو کسی لڑکی کی ذاتی شناخت کو ابھرنے نہیں دے رہی ہیں تاکہ سماجی تاثرات کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کو بہن، بیٹی، بیوی یا ماں کے دائروں سے باہر نکالنے اور انہیں سماجی امور میں شرکت کی حوصلہ افزائی کی جائے.

 قومی یوم بنات کو  لڑکے اور لڑکی میں امتیاز نہ برتنے اور معاشرے کے لوگوں کو صنفی مساوات کے بارے میں آگاہ کرنے کا عہد کرنا چاہئے.

Thursday, 22 December 2016

National Mathematocs Day

قومی یوم ریاضی

۲۲؍ دسمبر

ہندوستان میں ۲۲؍ دسمبر کو قومی یوم ریاضی قرار دیا گیا ہے۔یہ ہندوستان کے ماہر ریاضیات سری نواس راما نوجن کا یوم پیدائش ہے۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے اپنی وزارت عظمی کے دور میں سری رامانوجن کی ۱۲۵ ویں یوم پیدائش تقریب کے موقع پر افتتاحی تقریب میں مدراس یونیورسٹی کے سینٹنری آڈیٹوریم میں منعقد ۲۶ فروری کو ۲۰۱۲ کو اس کا اعلان کیا گیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ ۲۰۱۲ کو  قومی سال ریاضی کے طور پر منایا جائے گا۔

اس موقع پر ہندوستان اور یونیسکو نے پوری دنیا کے طلبہ کے لیے علوم ریاضیات کو عام کرنے اور اس کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل طے کرنے پر رضامند ی دی۔

ماہر ریاضیات سری نواس راما نوجن ۲۲؍ دسمبر ۱۸۸۷ کو پیدا ہوائے اور ۲۶؍ اپریل ۱۹۲۰ کو ان کا انتقال ہوا۔ ریاضیات کے میدان میں ان کی خدمات کا اعتراف کرنے کے لیے حکومت ہند نے ان کے یوم پیدائش کو ہر سال قومی یوم ریاضی اور ۲۰۱۲ کو سال ریاضی کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔

عدیم المثال اور خود مطالعہ ماہر ریاضیات راما نوجن نے نطریہ اعداد number theory کو دریافت کیا ریاضیاتی تجزیے mathematical analysis غیر معینہ تسلسل infinite series اور کسر مسلسل continued fraction میں اپنی غیر معمولی خدمات پیش کیں۔ وہ علوم ریاضی سے اتنی محبت کرتے تھے کہ اسکول کے بیشتر مضامین میں ناکام ہوگئے۔

گرچہ ان کی زندگی بڑی مختصر رہی تاہم انہوں نے اپنی مختصر زندگی میں ۳۹۰۰ ریاضیات کے نتائج، اکویشن کے ساتھ اپنی ان دریافتوں کو بھی جمع کیا جو راما نوجن پرائم اور راما نوجن تھیٹا کے نام سے مشہور ہوئیں اور اس  مضمون کی تحقیقات کو فروغ دیا۔

Saturday, 17 December 2016

Rights of Minority Days

حقوق اقلیات کا عالمی دن
عالمی یوم حقوق اقلیات
۱۸؍ دسمبر
۱۸؍ دسمبر کو ہر دن ساری دنیا میں اقلیتوں کے حقوق کا دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہمیں اقلیتوں حقوق کی یاد دہانی کراتا ہے۔ ہر ملک میں مختلف نسلی، لسانی اور مذہبی اقلیتیں پائی جاتی ہیں۔ ہر ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ تمام اقلیات کو ان کی آبادی اور مذہب کے لحاظ سے وہ تمام حقوق فراہم کرائے جو ملک کے دیگر اکثریتی طبقے کو حاصل ہے۔ اقلیتوں کو مساوی حقوق فراہم کرانا سچی جمہوریت کی پہچان ہے۔ دنیا بھر میں ایسے واقعات پیش آتے رہتے ہیں جن کسی خاص اقلیتی طبقے کو مختلف طرح کے امتیازات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسی صورتحال سے نبرد آزما ہونے اور اقلیتوں کے خلاف امتیازات کے واقعات کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ نے ۱۸ دسمبر ۱۹۹۲ کو قومی، نسلی اور  مذہبی اقلیتوں  سے وابستہ افراد کے حقوق کا اعلامیہ جاری کیا ۔
اقوام متحدہ نے وضاحت کی کہ:
ریاست اپنے تمام خطے میں اقلیتوں کے قومی، نسلی، ثقافتی، مذہبی اور لسانی شناخت کا تحفظ کرے گی اور ان کی شناخت کو باقی رکھنے کے لیے تمام امکانات کو فروغ دےگی۔
یہ وضاحت ساری دنیا میں اقلیتوں کے تحفظ کے ضمن میں بڑا اقدام تھا۔  ہندوستان کے لیے بھی یہ بڑا اہم دن ہے ۔ کیونکہ ہندوستان میں بھی کئی طرح کی اقلیتیں ہمیشہ سے رہتی آئی ہیں۔ اس دن اقلیتوں اور ان کے مسائل پر بحث و مباحثہ اور ان کے حل کے لیے غور و فکر کرنے  کا ایک موقع سامنے آتا ہے۔ حالانکہ ہندوستان نے  اپنے دستور میں اقلیتوں کے تمام حقوق مساوی طور پر فراہم کئے ہیں اور ان کی شناخت اور ثقافت کو ترقی دینے کی ذمہ داری  ریاست کو دی ہے۔ اس  کے باوجود مختلف سطح پر اقلیتوں کے حقوق کی پامالی کے واقعات آزادی کے بعد سے تاحال پیش آتے رہے ہیں۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے اقلیتوں کے مسائل کے حل کے لیے جہاں قومی سطح پر قومی اقلیتی کمیشن قائم کیا گیا ہے وہیں ریاستی سطح پر ریاستی اقلیتی کمیشن کی تشکیل کی گئی ہے۔ اقلیتوں کے فروغ کے لیے حکومت کی جانب سے کئی طرح کے مراعات  اور اسکیمیں بھی چلائی گئی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس دن ہم اقلیتوں کے حاصل حقوق کے سلسلے میں عوام کو بیدار کریں ساتھ ہی ان کو مرکزی اور ریاستی سطح  پر جو مراعات حاصل ہیں اور ان کے لیے جو اسکیمیں چلائی گئی ہیں ان سے واقف کراتے ہوئے ان اسکیموں کا فائدہ اٹھانے کی ترغیب دلائی جائے۔ اسکیموں کا فائدہ حاصل کرنے میں جو زمینی مسائل ہیں ان کے حل پر غور وفکر اور عملی اقدام بھی کیا جائے ۔
آئین ہند میں اقلیتوں کے حقوق:
آئین ہند نے بنیادی حقوق بنائے ہیں جو  ہندوستان کے  ہر فرد کو بلا امتیاز جنس، مذہب، نسل، ذات اور لسان حاصل ہے۔ یہ حقوق کسی بھی طرح سے چھینے نہیں جاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے ۔ ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہے اور نہ کسی اکثریت کے مذہب کو ریاست کا مذہب قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس حیثیت سے ملک کا ہر فرد خواہ وہ اکثریتی طبقے سے تعلق رکھتا ہو یا اقلیتی طبقے سے ملک کا مساوی شہری ہے اور ایک شہری کی حیثیت سے اسے بھی وہ تمام حقوق حاصل ہیں جو کسی بھی شہری کو حاصل ہیں۔ مذہب  یا زبان یا دیگر کسی بھی بنیاد پر کوئی شہری دوسرے درجے کا نہیں بلکہ سب اول درجے کے شہری ہیں۔ ان کے علاوہ کچھ خصوصی آرٹیکل ہیں جن میں اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کی ضمانت دی گئی ہے۔ مثلا
آرٹیکل ۲۹
دستور نے آرٹیکل ۲۹ میں مذہبی اور لسانی اقلیات کو یہ حق دیا ہے کہ وہ اپنا تعلیمی ادارہ قائم کرے اور اس کو چلائیں۔ یہاں اقلیتوں کو اپنی ثقافت کے مطابق چلنے اور اس کو فروغ دینے کی بھی ضمانت دی گئی ہے۔ ہندوستان مختلف تہذیبوں کا ملک ہے اور اس کثیر تہذیب کو باقی رکھا جانا بھی ضروری ہے۔ کیونکہ یہی ہندوستان کی شناخت ہے۔ ہندوستان میں ہندی دفتر ی زبان ہے لیکن اس کے باوجود تمام طبقات کو ان کی مادری زبان میں بنیادی تعلیم دینے کی ذمہ داری ریاست کی ہے۔ اس کے علاوہ یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ ہندوستان میں ۲۰؍ سے زائد دفتری زبانیں ہیں۔
آرٹیکل ۲۹؍ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ نسل، مذہب، ذات، زبان کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں کی جاسکتی ہے اور ریاست کے ذریعہ چلائے جارہے  یار ریاست سے امداد پارہے تعلیمی اداروں  میں ان بنیادوں پر داخلہ سے منع نہیں کیا جاسکتا ہے ۔
آرٹیکل ۳۰
آرٹیکل ۳۰ اقلیتوں کے حقوق کا ایک بڑا آلہ ہے۔ اس آرٹیکل کی رو سے تمام اقلیتوں کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ اپنی پسند کا تعلیمی ادارہ قائم کریں اور اس کا انتظام وانصرام اپنے ہاتھ میں رکھیں۔ سرکاری امداد حاصل کرنے کے سلسلے میں ایسے اداروں کے ساتھ سرکاری تفریق نہیں کرسکتی ہے۔
آرٹیکل ۱۶ اس بات کی ضمانت دیتی ہے کہ سرکاری ملازمت میں نسل، مذہب، زات اور زبان کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں کرسکتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہندوستان کا ہر شہری بلاامتیاز سرکاری دفاتر میں ملازمت کا مساوی حق رکھتا ہے۔
آرٹیکل ۲۵  ہر شخص کو مذہبی آزادی کا حق دیتا ہے۔ یہ آرٹیکل اس بات پر زور دیتا ہے کہ کسی اقلیتی طبقہ کا رکن وہ اپنے مذہب پر چلنے کا حق رکھتا ہے۔ ریاست صرف ان امور مذہبی امور سے باز رکھ سکتی ہے جب امن عامہ کو خطرہ ہو۔ اقلیتیں صرف اپنے مذہب پر چلنے کا ہی حق نہیں رکھتی ہیں بلکہ اس کو اس کی بلا جبر  وتشدد تبلیغ بھی کرسکتی ہیں۔ کیونکہ جبر وتشدد فرد کی آزادی کو چھیننے کا باعث ہیں۔
ہندوستان کی مذہبی اقلیات :
مرکزی حکومت نے ۲۰۰۶ میں وزارت برائے اقلیتی امور کی تشکیل کی جو ہندوستان کی مذہبی اقلیات کے لیے موجود پروگراموں کو فروغ دینے اور عمل میں لانے کا مرکزی حکومت کا ایک اعلی ادارہ ہے۔
قومی کمیشن برائے اقلیات ایکٹ ۱۹۹۲ کے گزٹ میں شق ۲ (ج) کے تحت مسلم، سکھ، عیسائی، بودھ، زرتشت (پارسی) اور جین کو مذہبی اقلیات میں شمار کیا گیا ہے۔
اقلیتوں کی آبادی کا تناسب:
۲۰۱۱ کی مردم شماری کے مطابق ہندوستان کی کل آبادی ۱۲۱ کروڑ ہے۔ ان میں ہندوؤں کی تعداد 79.8 فیصد، مسلم 14.2 فیصد، عیسائی 2.3 فیصد، سکھ 1.7 فیصد، بودھ 0.7 فیصد، جین 0.4 فیصد ہے۔
لسانی اقلیت:
لسانی اقلیت کی کوئی واضح تعریف نہیں کی گئی ہے۔ حتی کہ رنگناتھ مشرا کمیشن    کی رپورٹ جو ہندوستان کی مذہبی اور لسانی اقلیتوں کے حالات کے جائزے کے لیے تشکیل دی گئی تھی تو کوئی واضح تعریف نہیں ملتی ہے۔
اس کو اس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ ہر صوبہ ؍ ریاست میں ایک غالب زبان ہوتی ہے جس کو لوگوں کی اکثریت بولتی ہے۔ اسے مقامی زبان کہا جاتا ہے۔ وہ تمام لوگ جو مقامی زبان نہیں بولتے ہیں لسانی اقلیت سے تعلق رکھتے ہیں۔
لسانی اقلیت کئی طرح کے ہوسکتے ہیں:
مستقل طور پر : جیسے بیلگام  ضلع میں مراٹھی زبان کے بولنے والے اور آسام میں بنگالی زبان کے بولنے والے۔
غیر مستقل:
جیسے اڑیا زبان بولنے والوں کو روزگار کے لیے گجرات  میں رہنا، بہاریوں کا پنجاب میں تامل کو دہلی میں رہنا۔
قانونی واساسی ادارے:
سنٹرل وقف کونسل (Central Wakf Council)
قومی اقلیتی کمیشن (National Commission for Minorities)
کمشنر برائے لسانی اقلیات ( Commissioner for Linquistic Minorities)
خود مختار ادارہ:
مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن  (Mounala Azad Education FoundatioN)

قومی اقلیتی ترقیات و فنانس کارپوریشن